کپتان شان مسعود بنگلہ دیش کیخلاف وائٹ واش کے بعد تنقید کی زد میں

کپتان شان مسعود بنگلہ دیش کیخلاف وائٹ واش کے بعد تنقید کی زد میں

فوٹو : فائل

لاہور: پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود بنگلہ دیش کیخلاف وائٹ واش کے بعد تنقید کی زد میں ، شکست کا سارا ملبہ کپتان پہ ڈالا جارہا ہے شان کی قیادت میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامیاں طویل ہوگئیں، ان کی قیادت میں قومی ٹیم 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچز ہار گئی۔

بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں جو کہ سلہٹ میں کھیلا گیا کے خری دن بنگلا دیش نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کردیا ہے۔

بنگلہ دیش کے 437 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی ٹیم 358 رنز بنا سکی اور یوں دوسرے ٹیسٹ میں مہمان ٹیم کو 78 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بنگلہ دیش سے شکست کے بعد شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامیاں طویل ہوگئیں، قومی ٹیم کو اب تک ان کی قیادت میں کھیلے گئے 16 ٹیسٹ میچز میں سے 12 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ کامیابیوں کی تعداد انتہائی محدود رہی۔

بنگلادیش کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں بھی پاکستان ٹیم خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی اور شان مسعود کی کپتانی میں ہی دوسری مرتبہ وائٹ واش شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ٹیم کی پرفارمنس پر مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

اس سے قبل سال 2024 میں بھی بنگلادیش نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں مہمان ٹیم نے قومی ٹیم کو دو صفر سے شکست دے کر تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔

بنگلادیش کے خلاف سیریز میں شکست کے بعد سلہٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  شان مسعود نے کہا کہ میری نیت صاف ہے اور کپتانی کی ذمہ داری ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری کیلئے لی تھی، کچھ چیزیں ہیں جنہیں بہتر کرنے کیلئے کرکٹ بورڈ سے بیٹھ کر بات کرنی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ کپتانی کے حوالے سے فیصلہ ہمیشہ کرکٹ بورڈ کا ہوتا ہے، ان کی سوچ ہمیشہ کرکٹ کی بہتری کیلئے رہی ہے، بہتری لانے کیلئے ضروری نہیں کہ کرسی پر بیٹھ کر ہی سوچا جائے یا فیصلے کیے جائیں۔

شان مسعود کے مطابق تبدیلی سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کو بہتر بنانے کیلئے سوچنا ہوگا، شکست کا ذمہ دار بیٹنگ، بولنگ یا فیلڈنگ کو قرار نہیں دوں گا ، جب جیت ہوتی ہے تو 10رنز ہوں یا 100رنز سب کی اہمیت ہوتی ہے، شکست پر وہ بھی دلبرداشتہ ہیں لیکن نا تو جذبات میں آکر سوچنا ہوگا اور نا ہی جذباتی فیصلے کرنے ہوں گے۔

Comments are closed.