ثالثی کی ضرورت نہ پڑی، امریکہ اور ایران نے تھک ہار کر خود ہی لڑائی بند کر دی

فوٹو : سوشل میڈیا

اسلام آباد: جنگ میں اس بار ثالثی کی ضرورت نہ پڑی، امریکہ اور ایران نے تھک ہار کر خود ہی لڑائی بند کر دی، فریقین نے نقصان کے باوجود اپنی اپنی برتری کے دعوے کرتے ہوئے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کر دیا ہے، ٹرمپ نے پہلے حملے روکے ایران نے بھی حملے بند کرنے کا اعلان کیا.

ایران نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے گزشتہ دو راتوں سے حملے روکنے کے بعد اس نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔

امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ تقریباً دو ہفتوں کی شدید لڑائی کے دوران امریکا کو 37.5 ارب ڈالر سے زائد اخراجات برداشت کرنا پڑے جب کہ دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر میں تیزی سے کمی بھی مزید عسکری کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے تاہم واشنگٹن نے ان دعوؤں اور اخراجات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ ”حملے دو رات قبل تک جاری تھے لیکن گزشتہ دو راتوں سے امریکی حملے بند ہیں اور چوں کہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی کارروائی پر مبنی تھی، اس لیے ہم
نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکہ کی جانب سے حملے روکنے کے فیصلے کے بعد ایران نے بھی اپنے حملے بند کر دیے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تقریباً دو ہفتوں سے جاری عسکری کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ فی الحال تھم گیا ہے۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی دفاعی ہتھیاروں، خصوصاً پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز اور دیگر دفاعی نظام کے ذخائر میں کمی بھی حملے روکنے کی ایک اہم وجہ ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکہ کے لیے انتہائی مہنگی ثابت ہوئی ہے اور اب تک امریکی اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جب کہ ایرانی میزائلوں کو ناکام بنانے کے لیے امریکی دفاعی نظام پر تقریباً 1.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔

ادھر سی این این نے ایک نامعلوم پینٹاگون عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں فی الحال ”ہولڈ“ پر ہیں، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران پر ”اس سے کہیں زیادہ شدید“ حملوں کی دھمکی بھی دی تھی۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایک ایرانی ذرائع نےکہا ہےکہ ایران اس وقت تک اپنے حملے روکے رکھے گا جب تک امریکا اپنی جانب سے حملے روکنےکا موجودہ وقفہ برقرار رکھتا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا تھا کہ ایران کا مؤقف حملے کے جواب میں حملہ ہے، اگر حملے رک جاتے ہیں تو ایران بھی اپنی کارروائیاں روک دے گا، یہ پیغام پہلے ہی امریکہ تک پہنچایا جا چکا ہے.

Comments are closed.