بغیر کسی ٹھوس وجہ کے تبادلہ کسی جج کو سزا دینے کے مترادف ہوگا، چیف جسٹس
فوٹو : فائل
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کے تبادلے کے معاملے پر کمیشن کا اجلاس بلانے کے لیے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی غیر رسمی درخواستیں مسترد کردیں۔
چیف جسٹس پاکستان یحیٰ آفریدی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو اپنے تحریری جواب میں واضح کیا کہ ججوں کے تبادلے کے لیے کمیشن اجلاس بلانے کی درخواست قبول نہیں کی جاسکتی، بغیر کسی ٹھوس وجہ کے تبادلہ کسی جج کو سزا دینے کے مترادف ہوگا، چیف جسٹس نے کہا اس لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس کسی مخصوص مقصد کے لیے طلب کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ججوں کی واپسی وفاقی توازن کے خلاف ہوگی، جس کے نتیجے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں صوبوں کی نمائندگی ختم ہوجائے گی۔
اس اقدام سے اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ 2010 کے تقاضے بھی متاثر ہوں گے جبکہ 9 میں سے 5 ججوں کے تبادلے سے عدالتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
چیف جسٹس یحیٰ آفریدی کے خط کے مطابق متعدد آسامیوں کے خالی ہونے سے عدالتی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی، اور ججوں کے تبادلے کے لیے کوئی واضح وجہ یا ادارہ جاتی ضرورت بھی بیان نہیں کی گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آئین پاکستان جج کو ہٹانے کے لیے آرٹیکل 209 کے تحت واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ صرف آرٹیکل 209 کے تحت ہی کسی جج کے خلاف کارروائی ممکن ہے، ججوں کے انتظامی تبادلے آئین کے منافی ہوں گے، اور اس سے عدلیہ کی آزادی و خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔ ججوں کو قابلِ تبادلہ انتظامی افسر تصور کرنا خطرناک رجحان ہوگا، اور ایسے اقدامات عدالتی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ سیکرٹری جوڈیشل کمیشن اجلاس بلانے کے مجاز ہیں، اور 7 اپریل 2026 کو کمیشن کے ایک تہائی ارکان کی جانب سے اجلاس بلانے کی ہاتھ سے لکھی گئی ریکوزیشن موصول ہوئی۔
آرٹیکل 175A کے تحت ایک تہائی ارکان کی درخواست پر سیکرٹری اجلاس طلب کرسکتے ہیں، تاہم تبادلے سے متعلق اجلاس بلانے کی وجوہات تمام ارکان کو فراہم کرنا ضروری ہوگا۔
Comments are closed.