امریکہ نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں

فوٹو : فائل

اسلام آباد: امریکہ نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں، امریکہ کی جانب سے ان اداروں اور شخصیات پر الزام ہے کہ یہ ایران کے بینکاری شعبے کی مدد کرتے ہیں۔

ان اداروں پر پابندیاں لگاتے ہوئے امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ ان اداروں اور شخصیات نے اربوں ڈالر کا تیل پار کرانے میں مدد دی۔

اس کے علاوہ بھی امریکہ نے دھمکی بھی دی ہے کہ وہ ایران کے ان بینکوں پر پابندیاں عائد کر دے گا جو ان چینی ریفائنریز کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو اپنے بحری جہاز آبنائے ہُرمز سے نکلوانے کے لیے ٹول ادا کر رہی ہیں۔

امریکہ میں غیر قانونی اثاثوں کے کنٹرول کے محکمے Ofac نے بھی ایرانی حکومت کو ٹول ادا کرنے والی کمپنیوں کو متنبہ کیا ہے،
امریکی محکمے اوفیک کے مطابق چینی صوبے شنڈونگ میں کئی آزاد چینی کمپنیاں ایرانی تیل درآمد کرتی یا اسے ریفائن کرتی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کے "شیڈو بینکنگ نیٹ ورک” کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی ہے، جس کے ذریعے اربوں ڈالر کی مالی ترسیلات انجام دی جا رہی تھیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے (آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول) او ایف اے سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان افراد اور کمپنیوں نے ایران کو پابندیوں سے بچنے اور مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت میں سہولت فراہم کی۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے کئی ارب ڈالر کا غیر شفاف لین دین کیا گیا جو عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔

امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی کمپنی اگر آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی حکومت یا پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی )کو "ٹول ٹیکس” یا فیس ادا کرتی ہے تو اس کے خلاف بھی سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

Comments are closed.