امریکہ اورایران کے درمیان براہ راست مزاکرات کاامکان کم، ثالثی میں پیش رفت ممکن

امریکہ اورایران کے درمیان براہ راست مزاکرات کاامکان کم، ثالثی میں پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے

فوٹو : سوشل میڈیا

اسلام آباد: امریکہ اورایران کے درمیان براہ راست مزاکرات کاامکان کم، ثالثی میں پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے، اسلام آباد میں ممکنہ امن مذاکرات اس وقت تعطل کا شکارہیں تاہم اس کے باوجود امریکی وفد کی آمد کی تصدیق سے غیررسمی پیش رفت کا امکان موجود ہے۔

اس حوالے سے برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق  مزاکرات میں تعطل تب پیدا ہوا جب ایران نے اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی پر برہم ہو کر یہ عندیہ دیا کہ وہ اب مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری طرف وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ اس کے بعد ایران کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے،انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں مذاکرات کی جانب ’کچھ پیش رفت‘ ہو رہی ہے۔

امریکہ کی جانب سے یہ بھی تصدیق کی جاچکی ہے کہ امریکی مزاکراتی ٹیم کے دو اہم ارکان سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج واشنگٹن سے پاکستان روانہ ہونے والے ہیں۔

اسلام آباد پہنچے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ نے پاکستان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے اس موقع پر ایرانی وفد بھی ان کے ہمراہ تھا  تاہم عباس عراقچی کے پاکستانی دارالحکومت پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی حکومت نے واضح کر دیا کہ وہ صرف پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے لیے آئے ہیں۔

 ایران کی طرف سے اس وضاحت کے بعد کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ اپنا نکات ثالث یعنی پاکستان کے سامنے رکھے گا جب کہ امریکہ وفد پاکستان میں بلواسطہ ڈائیلاگ کے زریعے کسی ممکنہ حل کی طرف جائیں گے۔

ایران کی جانب سے اس وضاحت کے بعد یہ قیاس آرائی حسب حال لگتی ہے کہ براہ راست مزاکرات شاید نہ ہوں جس میں ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ پاکستان دورے کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاس جوہری مذاکرات کی ذمہ داری نہیں۔‘

گزشتہ شب تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے کہا کہ وزیر خارجہ اسلام آباد میں ’صرف دوطرفہ تعلقات پر بات چیت‘ کے لیے موجود ہیں۔

ابراہیم عزیزی ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق بات چیت ایران کی ریڈ لائن میں شامل ہے۔‘

 

Comments are closed.