Browsing Category

کالم

ہیرو بننا ہے یا زیرو

محبوب الرحمان تنولی مودی کے ایوارڈ دہندگان آج ہمارے مہمان بن رہے ہیں خدا کرے یہ امریکہ کا کوہی پیغام لے کر نہ آہے ہوں، یامقبوضہ کشمیر میں کر فیو لگا کر خود پھنس جانے والی مودی سرکار کے ساتھ بے مقصد مزاکرات مذکرات کی نیو پٹاری نہ کھولنے

آیت اللہ علی خامنائی اور ناز شاہ کا ایوارڈ

حامد میر دریائے پونچھ کے کنارے واقع اس خوبصورت گاوں کا نام مدارپور تھا۔ ہجیرہ سے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف جاتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے قریب اس گاوں کے مکین کئی دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں کیونکہ بھارتی فوج اس گاوں کی آبادی

لوگ ریاست مدینہ کوچھوڑ رہے ہیں

جاوید چوہدری وہ میرا بچپن کا دوست تھا‘ سعودی عرب میں تھا‘ بیٹی گھر پر اکیلی تھی‘ عزیز رشتے دار تھے نہیں‘ ایک خالہ تھی وہ بھی ان پڑھ‘ بچی نے آئیلٹس کا ٹیسٹ دینا تھا‘ میرے دوست کا فون آیا اور اس نے ڈرتے ڈرتے کہا ’’آپ کراچی میں کسی جاننے

سلامتی کونسل سےزیادہ توقعات نہ رکھیں

محبوب الر حمان تنولی مسلہ کشمیر کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ اس تنازعہ کو ایک بار پھر عالمی سطح پر حل طلب تسلیم کیا گیا ہے اور بھارت نے مختلف حربوں ،حیلے بہانوں سے اسے دو طرفہ بنا دیا تھا اسی تنازعہ کو خود اپنے اقدام کے زریعے پھر عالمی

انڈین سول سوسائٹی

آمنہ مفتی کشمیر کا مسئلہ جو بہتر برسوں سے بر صغیر کے سینے میں ایک ناسور کی طرح پک رہا تھا آخر کار مودی سرکار نے اس میں خنجر گھونپ دیا۔ پوری وادی دنیا سے کٹی ہوئی ہے ،آج چاند رات ہے۔ بہتر سال پہلے کی ایک عید الفطر جو سنی سنائی ہے یاد

ایک شق ختم اور کشمیر پر قبضہ ؟

محبوب الرحمان تنولی بھارت نے پانچ اگست کو کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں اقوام عالم کے منہ پر دے ماری ہیں، بھارتی وزیرداخلہ نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران چیخ چیخ کر بتایا ہے اقوام متحدہ کس چڑیا کا نام ہے؟ ہم

اصل سکندراعظم

جا وید چوہدری سکندر اعظم کون تھا مقدونیہ کا الیگزینڈر یا تاریخ اسلام کے حضرت عمر فاروقؓ ‘ ‘یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دینا دنیا بھر کے مؤرخین پرفرض ہے‘ آج ’’ ایس ایم ایس‘‘ کا دور ہے‘ موبائل کا میسجنگ سسٹم چند سیکنڈ میں خیالات کو دنیا

یہ منہ اور مسور کی دال

محبوب الر حمان تنولی جن کو انقلابی اور جمہوریت کا چمپین سمجھ کر بعض اندھے پیروکار نجات دہندہ قرار دینے پر تلے ہوہے ہیں اور کچھ بےوزن شعراردیف ملا کر ہم قافیہ نثر فیس بک پربکھیر کرناسمجھ مقلدین سے واہ واہ سمیٹ رہے ہیں انھیں ریکارڈ کی

! گھبرانا نہیں ہے

کپتان کی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو عام پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہتری نام کی تو کوئی چیز نہیں لیکن حکومتی رویئے نے اپوزیشن رہنماؤں کی زندگیاں ضرور اجیرن بنا رکھی ہیں موجودہ حکومت کے ایک سال پورے ہونے پر لوگ

جائے پناہ یہی بازار اور بِکنا مجبوری

عائشہ جہانزیب رنگین شِیشوں والی چھوٹی تنگ کھڑکیاں، بدنام گلیاں، رات کا اندھیرا اور چاند اپنی مدھم سی چاندنی اس بازار پر ڈال رہا تھا۔ میری ایک طرف مغل سلطنت کی آن بان اور شان و شوکت کا عَلم بردار شاہی قلعہ تھا اور دوسری طرف ایک

اشفاق احمد کے بعد عرفان صدیقی ۔۔ دہشتگرد کون استاد یا پولیس ؟

وقار حیدر اشفاق احمد اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں کہ اٹلی کے شہر روم میں مقیم تھا تو ایک بار اپنا جرمانہ بروقت ادا نہ کرنے پر مجھے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ جب جج نے مجھ سے پوچھا کہ جرمانے کی ادائیگی میں تاخیر کیوں ہوئی تو میں

پروفیسر کی طالبہ سے ڈیمانڈ

طاہر چودھری ایڈووکیٹ ‏پشاور یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ ایک پروفیسر صاحب کی غیر اخلاقی ڈیمانڈ نہ ماننے پر اسے ایک ہی مضمون میں بار بار فیل کیا جا رہا ہے۔اس نے باقی سب مضامین میں اے ون گریڈ حاصل

صادق سنجرانی کا کیا قصور؟

عثمان خان پاکستان کا پسماندہ صوبہ بلوچستان اور اس کا پسماندہ ضلع چاغی کا ایک ہونہار سپوت جو نہ صرف نام کا ہی صادق نہیں بلکہ کردار کا بھی صادق نکلا۔ ایوان بالا میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے جمہوری انداز سے چیئرمین سینیٹ جیسے آئینی عہدہ کا

روزے بخشوانے کا شوق

مصطفے صفدر بیگ آپ سوچ رہے تھے کہ آپ آگ لینے جائیں گے اور گھر والے بن کر بیٹھ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس کہ آپ نمازیں بخشوانے گئے تھے اور روزے آپ کے گلے پڑ گئے ۔۔۔۔۔۔ سیانے کہتے ہیں کہ مونجی والے گاوں ۔۔۔ پرالی سے پہچانے

جدیدیت اور حیا

آج ہمارا معاشرہ بہت تیزی سے برائی کی طرف گامزن ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ہماری نوجوان نسل میں سے حیا کے تصور کو ختم کرنا ہے۔جب آپ کسی قوم میں سے حیا کے تصور کو مٹا دیں گے تو وہ معاشرہ بہت آسانی کے ساتھ تباہ کیا جاسکتا ہے۔لیکن اگر ہم اپنے ماضی

عورت کو مارنا کتنا آسان ہے؟

وسعت اللہ خان بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ کی پولیس اور کرائم انویسٹی گیشن بیورو کے مطابق 2001 سے 2018کے درمیان ریاست میں 590 عورتوں کو ڈائن، چڑیل، بدروح قرار دے کر سنگسار کیا گیا یا درخت و چھت سے لٹکا کر پھانسی دی گئی یا قتل کیا

ریکوڈک، اب آرام ہے ؟

یاسر پیر زادہ ریکوڈک کا غلغلہ آج سے آٹھ دس سال پہلے اٹھا تھا، ان دنوں اخبارات میں خبریں شائع ہوئی تھیں اور بچے بچے کی زبان پر ریکوڈک کا نام چڑھ گیا تھا، کہانی سب کی ایک ہی تھی کہ سونے اور تانبے کے ان ذخائر کی مالیت دو ٹرلین ڈالر سے

امریکا نہیں روس جائیں

جاوید چوہدری ”ہمیں 70 سال کی محبت کا کیا صلہ ملا؟ وقت آ گیا ہے ہم ساڑھے بارہ ہزارکلو میٹر دور محبت کی پینگیں بڑھانے کے بجائے اپنے ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنائیں“ مجھے آج بھی یاد ہے میرے دوست خواجہ آصف یہ کہتے ہوئے جذباتی ہوگئے تھے‘وہ

شناخت برائے فروخت

محبوب الرحمان تنولی لکھنے کے خبط میں مبتلا ہونے کے باوجود میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ متنازعہ موضوعات سے دور رہا جا ئے۔ بالخصوص اس ریڈ زون میں داخلے سے اجتناب برتا جو افراد کو جوڑنے کی بجاہے توڑنے یا تفریق پیدا کرنے کا سبب بنتا ہو۔

بنی گالہ کی ناک تلے فرشتہ کا قتل

بابر ملک قصور کی زینب ہو یا وفاقی دارالحکومت میں درندگی کانشانہ بننے والی فرشتہ مہمند ، اس طرح کاظلم و زیادتی جہاں بھی ہو ذمہ داروں کو صرف کٹہرے میں لانا مقصد نہیں ہونا چاہئے بلکہ انکو بیچ چوراہے لٹکانے سے ایسے مسائل کی حوصلہ شکنی ممکن