امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ہیدائشی بچوں کی شہریت برقرار، ٹرمپ کا سخت ردعمل
فوٹو : سوشل میڈیا
واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ امریکہ میں مقیم والدین کے ہاں پیدا ہونے والے نومولود بچوں کو بدستور پیدائشی حق کے تحت خودکار امریکی شہریت حاصل ہوگی، جس سے پاکستانی والدین سمیت لاکھوں تارکین وطن کے خاندانوں کو بڑا ریلیف ملا ہے۔ عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جس کا مقصد پیدائشی حقِ شہریت (Birthright Citizenship) کو محدود کرنا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنی اکثریتی رائے میں واضح کیا کہ امریکہ میں ایسے والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچے، جو یا تو غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہیں یا عارضی ویزے پر موجود ہیں، ریاستہائے متحدہ کے "دائرہ اختیار کے تابع” تصور کیے جائیں گے۔ اس لیے وہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم (14th Amendment) کے تحت پیدائش کے وقت سے ہی امریکی شہری ہوں گے۔
اکثریتی فیصلہ چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا، جس سے جسٹس ایمی کونی بیرٹ، جسٹس ایلینا کاگن، جسٹس سونیا سوٹومائیر اور جسٹس کیتنجی براؤن جیکسن نے اتفاق کیا۔ اس طرح عدالت نے واضح اکثریت کے ساتھ پیدائشی حقِ شہریت کو برقرار رکھا۔
جسٹس بریٹ کیوانوف نے بھی فیصلے سے اتفاق کیا، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر آئین کے بجائے 1940 میں منظور کیے گئے وفاقی شہریت کے قانون سے متصادم ہے۔ دوسری جانب جسٹس کلیرنس تھامس، سیموئیل ایلیٹو اور نیل گورسچ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 1868 میں منظور کی جانے والی امریکی آئین کی چودھویں ترمیم واضح طور پر یہ ضمانت دیتی ہے کہ امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر شخص، جو امریکی دائرہ اختیار کے تابع ہو، وہ ریاستہائے متحدہ اور متعلقہ ریاست کا شہری ہوگا۔ یہی آئینی شق گزشتہ ڈیڑھ صدی سے امریکی شہریت کے نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین قانون کے مطابق اگر ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر برقرار رہتا تو ہر ماہ امریکہ میں غیر دستاویزی تارکین وطن یا عارضی ویزے پر موجود افراد کے ہاں پیدا ہونے والے دسیوں ہزار بچوں کو امریکی شہریت سے محروم کیا جا سکتا تھا، جس سے لاکھوں خاندان قانونی اور سماجی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو اب قانون سازی کے ذریعے پیدائشی حقِ شہریت ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقصد کے لیے آئینی ترمیم ضروری نہیں، بلکہ وفاقی قانون سازی کے ذریعے بھی اس معاملے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور انہوں نے قانون سازوں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد اس ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایسے بچوں کو شہریت کی دستاویزات جاری نہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جن کے والدین غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہوں یا عارضی حیثیت رکھتے ہوں۔ تاہم متعدد وفاقی ضلعی عدالتوں اور اپیل عدالتوں نے اس حکم پر عمل درآمد روک دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ یہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم سے متصادم ہے۔
اس پالیسی کو عدالت میں چیلنج کرنے والی شہری حقوق کی تنظیموں اور امیگریشن وکلاء نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امریکی آئین، مساوات اور بنیادی شہری حقوق کی بڑی فتح قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے نے نہ صرف 150 سال سے زائد عرصے سے نافذ آئینی اصول کو محفوظ بنایا بلکہ لاکھوں تارکین وطن کے بچوں کے مستقبل کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد امریکہ میں پیدائشی حقِ شہریت بدستور برقرار رہے گا اور کسی بھی انتظامی حکم کے ذریعے اس بنیادی آئینی حق کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا، جب تک کہ آئین میں باقاعدہ ترمیم نہ کی جائے۔
امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ہیدائشی بچوں کی شہریت برقرار، ٹرمپ کا سخت ردعمل
Comments are closed.