امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا
فوٹو : ارنا
اسلام آباد : امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس اور ابو موسیٰ جزیرے سمیت متعدد مقامات حملوں کی زد میں آئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ حملے تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کا بدلہ ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پر ہونے والی تازہ امریکی کارروائیوں کے بارے میں بات کی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے انھیں (ایران کو) بہت شدت سے نشانہ بنایا ہے اور میں یہاں آج یہ بات کہوں گا کہ ہم نے انھیں 20 گنا زیادہ طاقت سے جواب دیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جب بھی وہ ہم پر حملہ کریں گے، ہم انھیں 20 گنا زیادہ طاقت اور شدت سے جواب دیں گے.
ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر کے ہوائی اڈے کی عمارت اور رن وے میں دھماکے کے بعد فضا میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے بھی سیستان و بلوچستان کے نائب گورنر اور ایرانشہر کے گورنر کے حوالے سے شہر کے ہوائی اڈے پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ہفتے دوسری رات ایران کو سخت نشانہ بنانے کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ ایران کے خلاف مزید حملے جاری ہیں۔
روس کی خبر رساں ایجنسی ’طاس‘ نے ایک ایرانی سکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں تہران نے امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت کے لیے ایک نئے راستے کو فعال کرنے کی امریکی کوشش دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے۔
Comments are closed.