امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، دھمکیاں، پھر مزاکرات کرنے پر متفق
فوٹو : فائل
اسلام آباد:امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، دھمکیاں، پھر مزاکرات کرنے پر متفق ہوگئے ہیں، دونوں کا فوجی کارروائیاں روکنے اور آبنائے ہرمز کے تنازع سمیت دیگر اہم معاملات پر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے حملے روکنے اور سفارتی مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ 17 جون کو طے پانے والے 14 نکاتی امن معاہدے پر تکنیکی سطح پر بھی بات چیت جاری رہے گی۔
عہدیدار کے مطابق دونوں فریق فی الحال جنگی کارروائیوں سے گریز کریں گے، جس کے بعد آبنائے ہرمز اور دیگر بحری راستوں سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہ سکے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان نئے دور کے مذاکرات منگل سے قطر میں شروع ہوں گے، جہاں جنگ بندی، علاقائی سلامتی اور بحری گزرگاہوں کے تحفظ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی اور ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ایران نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جبکہ امریکا نے اس کے جواب میں ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا تھا۔
ایرانی فوج نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکی کارروائیوں کے باعث جنگ بندی متاثر ہوئی، جبکہ امریکا نے ایران کو مزید حملوں کی صورت میں سخت نتائج کی وارننگ دی تھی۔
تازہ پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
Comments are closed.