گھر کی دیواروں سے اٹھنے والا شور
فاطمہ عرفان
کسی بھی معاشرے کی اصل تصویر اس کی بلند و بالا عمارتوں، ترقی، سڑکوں یا جدید سہولیات سے نہیں بلکہ اس کے گھروں کے اندر پروان چڑھنے والے رویوں سے بنتی ہے۔ گھر وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں ایک بچے کی سوچ، کردار اور شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
اگر انہی دیواروں کے درمیان محبت، برداشت اور احترام کی فضا قائم ہو تو معاشرے کو باشعور اور ذمہ دار شہری میسر آتے ہیں، لیکن جب انہی دیواروں سے تلخ کلامی، جھگڑوں، عدم برداشت اور ذہنی دباؤ کا شور بلند ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کی رگوں میں سرایت کر جاتے ہیں۔
آج بڑھتی ہوئی بے صبری، تشدد، نفرت اور باہمی رنجشوں کے پیچھے اگر کسی بنیادی سبب کو تلاش کیا جائے تو اس کی جڑ اکثر ہمارے گھریلو ماحول میں ملتی ہے۔ یہ شور محض آوازوں کا شور نہیں، بلکہ ٹوٹتے رشتوں، بکھرتی شخصیات اور زوال پذیر سماجی اقدار کی ایک دردناک داستان ہے۔
ابھی چنددن پہلے کی بات ہے کہ میں حسبِ معمول اپنی گلی سے گزر رہی تھی۔ شام کا وقت تھا اور گلی بچوں کی ہنسی، قہقہوں اور کھیل کود کی آوازوں سے گونج رہی تھی۔ بچے اپنی معصوم دنیا میں مگن تھے۔ کوئی دوڑتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا، کوئی گیند کے تعاقب میں بھاگ رہا تھا اور کوئی اپنی چھوٹی سی کامیابی پر خوشی سے شور مچا رہا تھا۔
یہ منظر زندگی، خوشی اور بے فکری کی ایک خوبصورت تصویر پیش کر رہا تھا۔ میں انہی دلکش مناظر کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک فضا کا رنگ بدلنے لگا۔ چند لمحے پہلے تک جو ماحول خوشی اور مسرت سے لبریز تھا، اس میں یکایک کشیدگی کی ایک لہر دوڑ گئی اور مجھے محسوس ہوا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے والا ہے۔
چند لمحے پہلے تک جو آوازیں خوشی اور بے فکری کی علامت تھیں، وہ یکایک چیخ و پکار اور جھگڑے کی آوازوں میں بدل گئیں۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو دو بھائی، جو ابھی کچھ دیر پہلے ایک ساتھ کھیل رہے تھے، معمولی سی بات پر ایک دوسرے کے دست و گریباں تھے۔
معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ کھیل کے دوران آؤٹ ہونے پرمعمولی سے تلخی ہوئی ا ور اسی معمولی اختلاف نے دیکھتے ہی دیکھتے جھگڑے کی صورت اختیار کر لی۔تاہم یہ واقعہ بظاہر معمولی تھا، لیکن اس نے میری ایک بڑے سماجی مسئلے کی جانب توجہ دلائی۔
آج ہمارے معاشرے میں برداشت اور تحمل کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ معمولی اختلافات اور چھوٹی چھوٹی رنجشیں اکثر شدید تنازعات میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات یہ کشیدگی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر اس مسئلے کی جڑ کہاں ہے؟ عدم برداشت، غصہ اور تشدد کا رویہ اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کی بنیاد بچپن میں رکھی جاتی ہے۔ بچے کی شخصیت کی تعمیر میں والدین اور گھریلو ماحول بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر گھر کے اندر معمولی باتوں پر جھگڑے ہوں، والدین ایک دوسرے کے ساتھ سخت لہجہ اختیار کریں، ہر وقت تلخ کلامی اور کشیدگی کا ماحول ہو تو بچہ بھی یہی رویے سیکھتا ہے۔درحقیت بچہ اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے۔
گھر اس کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے اور والدین اس کے پہلے استاد۔ جب ایک بچہ روزانہ اپنے گھر میں عدم برداشت، غصہ اور بے اعتمادی کا مظاہرہ دیکھتا ہے تو یہ مناظر اس کے ذہن میں نقش ہو جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف ان رویوں کو معمول سمجھنے لگتا ہے بلکہ رفتہ رفتہ یہی رویے اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
گھریلو دباؤ بھی بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ جب گھر میں گفتگو کا محور صرف نمبر، گریڈ، جی پی اے، پوزیشن اور دوسروں سے موازنہ بن جائے تو بچے کی زندگی مسلسل دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ "کتنے نمبر آئے؟”، "پوزیشن کیوں نہیں آئی؟”، "لوگ کیا کہیں گے؟”،
اورہمیں دوسروں کو جواب دینا ہے” جیسے جملے بچوں کے ذہن پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والا بچہ اعتماد، تخلیقی صلاحیت اور مثبت سوچ سے محروم ہو سکتا ہے۔ وہ زندگی کو مقابلے، خوف اور ناکامی کے احساس کے ساتھ دیکھنے لگتا ہے۔ نتیجتاً اس کے اندر چڑچڑاپن، غصہ، احساسِ کمتری اور عدم برداشت جنم لینے لگتے ہیں۔
اس لئے یہ بات ناگزیر ہے کہ اگر ہم ایک مہذب، پرامن اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی توجہ گھروں کے ماحول پر مرکوز کرنا ہوگی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سامنے صبر، برداشت، احترام اور محبت کا عملی نمونہ پیش کریں۔
اختلاف رائے کو لڑائی کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی روایت کو فروغ دیں۔ بچوں کو یہ سکھائیں کہ کامیابی صرف نمبروں اور گریڈز کا نام نہیں بلکہ اچھا انسان بننا بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ معاشرے کا شور سڑکوں سے نہیں، گھروں کی دیواروں سے اٹھتا ہے۔ اگر گھروں میں محبت، احترام اور برداشت کا ماحول قائم ہو جائے تو یہی بچے مستقبل میں ایک بہتر، باشعور اور ذمہ دار شہری بن کر معاشرے کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے گھروں کو امن، محبت اور تربیت کا گہوارہ بنائیں، کیونکہ مضبوط معاشروں کی بنیاد ہمیشہ مضبوط خاندانوں پر استوار ہوتی ہے۔
Comments are closed.