سمارٹ فون پر ٹیکس

رئوف کلاسرا

‏پچھلے سال ایم این اے قاسم گیلانی نے مہم چلائی کہ سمارٹ فون پر ٹیکس کم کیا جائے۔ یہ معاملہ بھی سلیم مانڈوی والا کی سینٹ فنانس کمیٹی میں بھی آیا‘ جہاں ایف بی آر کے افسران موجود تھے۔

‏چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کو ذہین اور حاضر جواب افسر سمجھا جاتا ہے۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ ان کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے‘ لہٰذا وہ ہنستے ہنستے اور مذاق مذاق میں اپنی بات منوا جاتے ہیں۔
‏وہ سمارٹ فونز پر ٹیکس کے حامی تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو شخص چار لاکھ روپے کا فون خرید سکتا ہے‘ وہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے ٹیکس بھی دے سکتا ہے۔
‏اجلاس سے باہر نکلے تو میرے ساتھ گپ شپ ہونے لگی۔

‏میں نے کہا: آپ کو علم ہے کہ اس ٹیکس کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل کتنی پیچھے رہ جائے گی؟ آپ چند ارب روپے ٹیکس تو اکٹھا کر لیں گے لیکن پاکستانی نوجوان جدید دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ 2018ء میں ڈالر ایک سو روپے کے قریب تھا۔ ایک ہزار ڈالر والا سمارٹ فون ایک لاکھ دس ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار میں مل جاتا تھا۔

‏اب ڈالر 280روپے کا ہے۔ مناسب سا جدید فون بھی تین لاکھ میں پڑتا ہے۔

‏اوپر سے حکومت نے امپورٹڈ فون پر ٹیکس لگا دیا‘ جو ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک ہے۔ مطلب یہ کہ ایک جدید فون اب پانچ سے چھ لاکھ روپے تک جا پہنچا ہے۔

‏اب دنیا سمٹ کر سمارٹ فون میں آ گئی ہے۔ اسی فون کے ذریعے آپ نے سب کچھ سیکھنا اور آگے بڑھنا ہے۔ اب جدید فون عیاشی نہیں رہا۔

‏بھارت میں متوسط طبقے کے تقریباً ہر فرد کے پاس سمارٹ فون موجود ہے۔ ایک تو وہاں ڈالر 72 روپے کا ہے (اب شاید 95 روپے کے قریب ہے)‘ یوں انہیں آئی فون ایک لاکھ روپے سے بھی کم میں پڑتا ہے جبکہ ہمیں تقریباً تین لاکھ روپے کا فون اور ٹیکس ملا کر پانچ چھ لاکھ روپے کا۔

‏اب جبکہ آئی فون بھارت میں بن رہے ہیں‘ پچھلے سال 70فیصد آئی فون بھارت میں تیار ہوئے۔ آپ نے اپنے نوجوانوں کو بھارت کے مقابلے میں لانے کے بجائے الٹا یہ فون ان کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے۔

‏ایک اندازے کے مطابق اس وقت سوا لاکھ بھارتی نوجوان امریکی ٹیک کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے صرف دس ہزار نوجوان ہیں۔

‏وجہ یہی ہے بھارت کا نوجوان جدید ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے جس میں اب جدید سمارٹ فون کا اہم کردار ہے۔

‏آپ چند ارب ٹیکس کما لیں لیکن بھارت نے اپنے نوجوانوں کے ذریعے پوری دنیا کی ٹیک مارکیٹ پر قبضہ جما رکھا ہے۔ آپ سمارٹ فون پر ٹیکس لگا کر اسے مزید مہنگا کر دیں اور بھارت سمارٹ فونز کی فیکٹریاں لگا کر اپنے ایک لاکھ روپے سے بھی کم میں اپنے نوجوانوں فراہم کر رہا ہے۔

‏آپ اپنے نوجوانوں کو خود ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پسماندہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ مہنگے فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے جو جدت کی حیران کن شکل ہے۔ اب ایسے ایسے حیران کن فیچرز آگئے ہیں جو آپ کی اس دنیا میں ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
‏میرا اپنا فون تین سال پرانا ہے‘ میں بھی اب نیا فون نہیں خرید سکتا کیونکہ دو لاکھ روپے ٹیکس کہاں سے لائیں؟

‏راشد لنگڑیال بولے: آپ کی باتیں مجھے تو سمجھ آ رہی ہیں‘ آپ کسی دن ہمارے افسران کو بھی یہی باتیں سمجھائیں۔

‏چھ ماہ سے اوپر گزر گئے لیکن وہ دن کبھی نہیں آیا کہ ہم ایف بی آر کے افسران کو سمجھا پاتے کہ اپنے نوجوانوں کو اس جدید دنیا میں چند ارب روپوں کی خاطر کنویں کا مینڈک نہ بنائیں۔

‏مہنگے ڈالر کی وجہ سے جدید سمارٹ فونز ان نوجوانوں کی ریچ سے پہلے ہی نکل گئے ہیں اوپر سے ڈیرہ سے دولاکھ تک کا ٹیکس۔۔۔ کہاں سے لائیں۔

(بشکریہ روف کلاسرا کی فیس بک وال سے)

Comments are closed.