اسرائیل میں قبل ازوقت انتخابات کا امکان، پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل منظور،نیتن یاہو کاکاوئنٹ ڈاون

اسرائیل میں قبل ازوقت انتخابات کا امکان، پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل منظور،نیتن یاہو کاکاوئنٹ ڈاون

فوٹو : رائٹرز

اسلام ٓباد:اسرائیل میں قبل ازوقت انتخابات کا امکان، پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل منظور،نیتن یاہو کاکاوئنٹ ڈاون شروع ہوگیا اسرائیل میں سیاسی بحران شدت اختیار کرگیا ہے جہاں پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے سے متعلق بل کی ابتدائی منظوری کے بعد قبل ازوقت عام انتخابات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر انتخابات ہوئے تو وزیراعظم Benjamin Netanyahu کو سخت سیاسی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں بدھ کے روز پیش کیے گئے بل کے حق میں 120 میں سے 110 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔ باقی ارکان ووٹنگ کے عمل میں شریک نہیں ہوئے۔

بل اب پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے جہاں اس پر مزید غور کیا جائے گا۔ اس کے بعد اسے مزید تین پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ اگر بل کو حتمی منظوری مل گئی تو 90 روز کے اندر نئے انتخابات کرانا لازمی ہوں گے۔ موجودہ صورتحال میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ انتخابات اکتوبر کے اختتام سے پہلے ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم نیتن یاہو اس وقت کئی داخلی اور خارجی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک جانب غزہ جنگ اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی نے ان کی حکومت کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے، تو دوسری طرف کرپشن الزامات سے متعلق مقدمات بھی ان کے لیے سیاسی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کو شدت پسند مذہبی جماعتوں کی ناراضی کا سامنا ہے۔ ان جماعتوں کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم نے مذہبی طلبہ کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا، جس کے باعث حکومتی اتحاد میں دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں۔

سیاسی بحران کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے بھی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے لیے اپنے الگ بل پیش کرنے کا اعلان کیا تھا، جس سے حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔

حکومتی اتحاد کے چیئرمین Ofir Katz نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ اتحاد اپنی مدت پوری کرچکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اپنے دور میں 9 بجٹ اور 520 قوانین منظور کیے، جبکہ اپوزیشن کے رویے نے حکومتی اتحاد کو مزید مضبوط کیا۔

اب تمام نظریں کمیٹی کارروائی اور آئندہ پارلیمانی مراحل پر مرکوز ہیں، جہاں انتخابات کی ممکنہ تاریخ پر اتفاق کیا جائے گا اور پھر بل کو حتمی منظوری کے لیے دوبارہ کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا۔

Comments are closed.