ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ایران پالیسی پر اختلافات گہرے، کشیدہ فون کال کی تفصیلات سامنے آگئیں

ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ایران پالیسی پر اختلافات گہرے، کشیدہ فون کال کی تفصیلات سامنے آگئیں

فوٹو : فائل

اسلام آباد: ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ایران پالیسی پر اختلافات گہرے، کشیدہ فون کال کی تفصیلات سامنے آگئیں ۔ امریکی صدر Donald Trump اور اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان منگل کو ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی، جس میں ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی پر سخت اختلاف سامنے آیا۔

سی این این کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے معاملے پر مختلف سوچ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے گفتگو میں واضح تناؤ محسوس کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا رابطہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل اتوار کو بھی اہم بات چیت ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ایران کے خلاف نئے ہدفی حملوں پر غور کیا تھا اور مجوزہ کارروائی کے لیے “آپریشن سلیج ہیمر” نام بھی زیرِ غور تھا۔ تاہم صرف ایک روز بعد امریکی صدر نے متوقع حملے روکنے کا اعلان کردیا۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ فیصلہ خلیجی اتحادی ممالک، خصوصاً Saudi Arabia، Qatar اور United Arab Emirates کی درخواست پر کیا تاکہ سفارتی کوششوں کو مزید وقت دیا جاسکے۔

ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک ان دنوں وائٹ ہاؤس اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے قابلِ قبول فریم ورک تیار کیا جاسکے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے معاملے میں صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر امریکا سخت اقدامات کرے گا، تاہم وہ اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس پالیسی سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران کے خلاف زیادہ سخت اور جارحانہ کارروائی کے حامی رہے ہیں اور ان کے نزدیک مزید تاخیر تہران کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق منگل کی ایک گھنٹہ طویل گفتگو کے دوران نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ امریکا اپنے طے شدہ فوجی منصوبے کے مطابق کارروائی دوبارہ شروع کرے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے مذاکرات کو موقع دینے کے مؤقف پر زور دیا۔

ایک اسرائیلی ذریعے کے مطابق اسرائیلی قیادت کو توقع تھی کہ امریکا ایران کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اختیار کرے گا، لیکن واشنگٹن کی حالیہ سفارتی حکمت عملی پر تل ابیب میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ صدر ٹرمپ سخت بیانات کے بعد اچانک سفارتی راستہ اختیار کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل ایران کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی چاہتا ہے۔

بعدازاں صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے نیتن یاہو کے ساتھ گفتگو کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا، “میں وہی کروں گا جو میں چاہوں گا۔”

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baghaei نے تصدیق کی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی فریم ورک کی بنیاد پر کئی بار پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے اور امریکی مؤقف کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

Comments are closed.