پنجاب ورکرز ویلفیئر نےاسکالرشپ فنڈز روک لئے ، کامسیٹس یونیورسٹی کے 900 طلبہ متاثر

فوٹو : اے آئی فائل

 اسلام آباد : پنجاب ورکرز ویلفیئر نےاسکالرشپ فنڈز روک لئے ، کامسیٹس یونیورسٹی کے 900 طلبہ متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث ان طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے. 

پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ (PWWF) کی مبینہ غفلت اور اسکالرشپ فنڈز کی مسلسل عدم ادائیگی کے باعث کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (CUI) کے مختلف کیمپسز میں زیرِ تعلیم فیکٹری مزدوروں کے 900 سے زائد بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی اور پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت واجب الادا رقم 26 کروڑ 20 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق تقریباً 610 طلبہ پرانے MoU کیسز کے تحت شامل ہیں جن کے واجبات 13 کروڑ 90 لاکھ روپے بنتے ہیں، تاہم اب تک صرف 3 کروڑ 80 لاکھ روپے ہی ادا کیے جا سکے ہیں۔

اسی طرح جدید MoU انتظام کے تحت فال 2025 سمسٹر میں زیرِ تعلیم 325 طلبہ 12 کروڑ 30 لاکھ روپے کے فنڈز کے منتظر ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی یقین دہانی پر مزدوروں کے بچوں کو مفت تعلیم اور ہاسٹل سہولیات فراہم کیں، تاہم فنڈز کی عدم فراہمی کے باوجود کامسیٹس انتظامیہ اپنے محدود وسائل سے ان طلبہ کی تعلیم، رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات برداشت کر رہی ہے۔

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ یونیورسٹی کو مالی دباؤ کے باعث ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

یونیورسٹی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر واجب الادا فنڈز فوری طور پر جاری نہ کیے گئے تو متاثرہ طلبہ کو سمسٹر رجسٹریشن، امتحانات، ڈگری اجرا اور تعلیمی تسلسل میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متاثرہ طلبہ کا تعلق کم آمدنی والے مزدور اور غریب گھرانوں سے ہے، جن کے والدین چھوٹی فیکٹریوں اور کارخانوں میں معمولی اجرت پر کام کرتے ہیں۔ ان خاندانوں نے اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا خواب مکمل طور پر اسی اسکالرشپ اسکیم سے وابستہ کر رکھا تھا۔

والدین کا کہنا ہے کہ اگر اسکالرشپ فنڈز جاری نہ ہوئے تو بچوں کو تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑے گا، اور یہ ناکامی طلبہ کی نہیں بلکہ اس ریاستی نظام کی ہوگی جس نے وعدے تو کیے مگر انہیں پورا نہ کیا۔

ایک جانب غریب اور مزدور طبقے کے لیے تعلیمی سہولتوں کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مزدوروں کے بچوں کی اسکالرشپ فائلیں سرکاری دفاتر میں التوا کا شکار ہیں۔ پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی مبینہ سستی اور غفلت نے نہ صرف سینکڑوں خاندانوں کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ مزدور طبقے کا ریاستی اداروں اور تعلیمی نظام پر اعتماد بھی متزلزل ہو رہا ہے۔

متاثرہ طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26 کروڑ 20 لاکھ روپے کے واجب الادا اسکالرشپ فنڈز فوری جاری کیے جائیں.

طلبہ کی سمسٹر رجسٹریشن اور ڈگریوں کا عمل بلا تعطل یقینی بنایا جائے، جبکہ آئندہ کے لیے فنڈز کی بروقت ادائیگی، واضح ٹائم لائن اور مؤثر جوابدہی کا نظام بھی قائم کیا جائے۔
طلبہ اور والدین کا کہنا ہے کہ تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے، کوئی احسان نہیں، اور کسی طالب علم کو حکومتی اداروں کی مالی غفلت کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔

Comments are closed.