ٹرمپ کو ایران میں مارگرائے گئے امریکی طیارے سے متعلق بریفنگ، پائلٹ کی تلاش جاری
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مارگرائے گئے امریکی طیارے سے متعلق بریفنگ، پائلٹ کی تلاش جاری ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کو مبینہ طور پر گرائے گئے طیارے کے بارے میں بریفنگ دے دی گئی ہے۔
اس سے قبل ایران کی فضائی حدود میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایف 15 کے گرائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد تہران کی جانب سے طیارے کے پائلٹ کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں اداروں روئٹرز، نیویارک ٹائمز اور ایگزیوز کو بتایا کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا، تاہم اس کے عملے کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ نے طیارے کے عملے کو بازیاب کرانے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔
اس سے قبل ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران میں ایک امریکی جیٹ گرایا گیا ہے اور پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ امریکی سینٹرل کمانڈ نے پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم کے اوپر ایک لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ تردید حالیہ ایرانی رپورٹس کے تناظر میں کی گئی ہے یا نہیں، جبکہ مزید تفصیلات کے لیے بی بی سی نے سینٹ کام سے رابطہ کیا ہے۔
تسنیم نیوز کے مطابق امریکی ہیلی کاپٹرز، طیارے اور جاسوس ڈرونز پائلٹ کی تلاش میں مصروف ہیں۔ایران کے سرکاری ٹی وی سے وابستہ ایک چینل کے نیوز ریڈر نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی پائلٹ کو زندہ پکڑے گا اسے انعام دیا جائے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے منسلک چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی لڑاکا طیارے کا پائلٹ جنوب مغربی ایران کے اوپر ایجیکٹ کر گیا تھا۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے ایک لڑاکا طیارے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ وہی امریکی طیارہ ہے جسے جمعہ کے روز گرایا گیا۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کو دو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی ایران میں گرائے گئے امریکی ایف-15 طیارے کی تلاش اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس طیارے میں عملے کے کتنے افراد سوار تھے۔
Comments are closed.