پاکستان اور چین نےایران جنگ کا پھیلاو روکنے کیلئے مشترکہ سفارتی کوششوں کا آغاز کر دیا

فوٹو : سوشل میڈیا 

اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کو کم کرنے اور پاکستان اور چین نےایران جنگ کا پھیلاو روکنے کیلئے مشترکہ سفارتی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اپنے چینی ہم منصب وانگ ای سے اہم ملاقات کے لیے چین پہنچ گئے ہیں، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازع پر تفصیلی مشاورت کی جا رہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر بیجنگ پہنچے ہیں جہاں دونوں رہنما پاک چین دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے کیساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اسحاق ڈار کا رواں سال کے دوران یہ بیجنگ کا دوسرا دورہ ہے۔ خیال رہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کندھے کے فریکچر کے باوجود چین کا دورہ کررہے ہیں۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ ایران کے معاملے پر اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ دیں گے اور خطے میں قیام امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

چین اور پاکستان ہر حال میں اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک بین الاقوامی و علاقائی مسائل پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے چین تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ حالیہ کشیدہ صورتحال کے باوجود تین چینی جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرے، جس پر متعلقہ فریقوں کے تعاون پر شکریہ ادا کیا گیا۔

چین نے جنگ کے دوران تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فریقین، خصوصاً امریکا اور اسرائیل فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں۔

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں جنگی فریقین، بالخصوص امریکا اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں تاکہ خطے میں مزید تباہی سے بچا جا سکے۔

چین نے جاری جنگ کے دوران تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی سخت الفاظ میں مخالفت بھی کی ہے۔

یہ تنازع نہ صرف انسانی جانوں کے بڑے پیمانے پر ضیاع کا سبب بن رہا ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث دنیا کو روزانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ توانائی کا عالمی بحران بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک سمیت پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملوں نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ اگرچہ اب تک ان ممالک نے تحمل اور احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم کشیدگی میں مسلسل اضافہ خطے کو ایک بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے۔

پاکستان کے تنازع میں گھسیٹے جانے کا خدشہ
اس تناظر میں دفاعی ماہرین بھی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو پاکستان براہِ راست اس تنازع کا حصہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کے سابق ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید، جو ماضی میں پاک فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اب تک انتہائی صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے امریکی نشریاتی ادارے CNN سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے فوجی ردعمل دیا تو وہ تنہا نہیں ہوگا، بلکہ اس کے نتیجے میں پورا خطہ ایک بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی نہایت اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ طے پایا تھا۔ حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

اس پیش رفت کے تناظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے یا خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو پاکستان کو اپنے اسٹریٹجک اتحادی کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

Comments are closed.