خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی تیز کرنے کافیصلہ، 40فوڈ آئٹمز کی برآمد کی منظوری

فوٹو : فائل 

اسلام آباد:خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی تیز کرنے کافیصلہ، 40فوڈ آئٹمز کی برآمد کی منظوری، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خلیجی ریاستوں کو اشیائے خورونوش کی فراہمی، پاکستانی بندرگاہوں اور میری ٹائم آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے حوالے سے حکمت عملی اور پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکموں اور افسران کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غذائی تحفظ کے حوالے سے خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث عالمی سپلائی لائن متاثر ہو رہی ہے، ایسے میں خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی غذائی ضروریات کو ہر صورت مقدم رکھا جائے اور طلب و رسد کی مکمل نگرانی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے ہدایت دی کہ وافر مقدار میں دستیاب اشیائے خورونوش کی خلیجی ممالک کو برآمدات کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور حکومتی اداروں میں فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ تاخیر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں وزیراعظم نے کراچی اور گوادر سمیت اہم ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز بڑھانے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔

بریفنگ کے اہم نکات:

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خصوصی کمیٹی نے خلیجی ممالک کو برآمدات کے لیے 40 فوڈ آئٹمز کی منظوری دے دی ہے، جن میں چاول، خوردنی تیل، چینی، گوشت، پولٹری، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔

برآمد کنندگان کا مکمل ڈیٹا بیس تیار کر لیا گیا ہے جبکہ سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد پر کوئی اضافی چارجز عائد نہیں کیے جائیں گے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اشیائے خورونوش کی برآمد کے لیے ہوائی اور بحری دونوں راستے استعمال کیے جائیں گے جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز کا انعقاد بھی جاری ہے۔

کراچی اور بن قاسم بندرگاہیں عید الفطر کے دوران بھی فعال رہیں، جبکہ آف ڈاک ٹرمینلز پر ٹرانس شپمنٹ ہینڈلنگ کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بندرگاہوں پر نقل و حمل کے نرخوں میں 60 فیصد تک کمی کی گئی ہے اور ایکسپورٹ سہولت ڈیسک بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔

خام تیل لانے والے جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر لنگر انداز کیا جا رہا ہے۔

Comments are closed.