ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کی تباہی، یورپ اور ایشیا کی اسٹاک مارکیٹیں کریش، آئل پرائسز بڑھ گئیں

فوٹو : فائل

اسلام آباد : ٹرمپ کی ڈیڈ لائن کی تباہی، یورپ اور ایشیا کی اسٹاک مارکیٹیں کریش، آئل پرائسز بڑھ گئیں، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جس کے بعد یورپ اور ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی منڈیوں میں آج (پیر) شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خدشات کے باعث اسٹاک مارکیٹیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی خام تیل کی قیمت یورپ میں پیر کی صبح 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت بھی بڑھ کر 113 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، جبکہ جنگ سے قبل یہ قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی اور حالیہ دنوں میں 119.50 ڈالر تک بھی جا چکی ہے۔

یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں کاروبار کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا، لندن کا ایف ٹی ایس ای 1.5 فیصد، پیرس کا سی اے سی-40 1.6 فیصد اور فرینکفرٹ کا ڈی اے ایکس 2 فیصد تک گر گیا۔

یورپ میں قدرتی گیس کے فیوچرز کی قیمت بھی مارکیٹ کھلتے ہی 60 یورو فی میگا واٹ آور سے اوپر ٹریڈ کرتی دیکھی گئی، جو گزشتہ ہفتے کے اضافے کے تسلسل کا حصہ ہے۔

ایشیا میں بھی صورتحال مختلف نہ رہی، جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس 3.5 فیصد، تائیوان کا ٹائیکس 2.5 فیصد، جنوبی کوریا کا کوسپی 6.5 فیصد، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 3.8 فیصد اور شنگھائی کمپوزٹ 3.6 فیصد گر گیا۔

تیل کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگ سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ رواں سال کم از کم دو بار شرح سود میں کمی کی جائے گی، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ امکانات کمزور ہو گئے ہیں۔

جمعہ کو بھی امریکی اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، جہاں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1.5 فیصد کمی کے ساتھ مسلسل چوتھے ہفتے مندی پر بند ہوا، جو ایک سال کی طویل ترین منفی لہر ہے۔

Comments are closed.