امریکی ریاست سیٹل میں خالصتان ریفرنڈم، ہزاروں سکھ ووٹرز کی شرکت، عالمی توجہ کا مرکز

فوٹو : اسکرین شاٹ 

سیٹل:امریکہ کی ریاست Washington کے شہر Seattle میں آج سکھ برادری کی جانب سے آزاد ریاست "خالصتان” کے قیام کے لیے ایک اہم اور متنازع ریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں ہزاروں سکھ ووٹرز کی شرکت متوقع ہے۔

یہ ریفرنڈم Sikhs for Justice کی عالمی مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں سکھ کمیونٹی سے رائے لی جا رہی ہے۔ ووٹنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے شروع ہوا، جبکہ بڑی تعداد میں سکھ ووٹرز پہلے ہی سیٹل پہنچ چکے تھے۔

ڈاؤن ٹاؤن سیٹل میں ایک بڑا خالصتانی پرچم نصب کیا گیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں خالصتان کے حق میں جھنڈے آویزاں کیے گئے ہیں۔ مقامی سکھ تنظیموں نے ووٹرز کے لیے کھانے پینے اور دیگر سہولیات کا بھی وسیع انتظام کیا ہے۔

یہ سیٹل میں اپنی نوعیت کا پہلا ریفرنڈم ہے، جس کی قیادت سکھ رہنما Gurpatwant Singh Pannun کر رہے ہیں۔ اس سے قبل Canada، United Kingdom، Italy اور Switzerland سمیت دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کے ریفرنڈمز منعقد ہو چکے ہیں، جن میں لاکھوں سکھ ووٹرز نے شرکت کی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ United States کی حکومت نے بھارتی تحفظات اور سفارتی دباؤ کے باوجود اس ریفرنڈم کے انعقاد کی اجازت دی، جسے اظہارِ رائے کی آزادی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب India پر بیرونِ ملک سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر Hardeep Singh Nijjar کے قتل کا واقعہ، جو Canada میں پیش آیا، عالمی سطح پر شدید ردعمل کا باعث بنا۔ اسی طرح امریکہ اور برطانیہ میں بھی سکھ رہنماؤں پر حملوں کی مبینہ سازشوں نے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

اس موقع پر گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ اگر بھارت ان ریفرنڈمز کو غیر اہم سمجھتا ہے تو پھر سکھ رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کیوں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ 10 سے 15 سال میں خطے کی صورتحال میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ریفرنڈم قانونی طور پر پابند نہیں، تاہم اس کی علامتی اور سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے، جو عالمی سطح پر سکھ برادری کے جذبات اور مطالبات کو اجاگر کرتا ہے۔

امریکی ریاست سیٹل میں خالصتان ریفرنڈم، ہزاروں سکھ ووٹرز کی شرکت، عالمی توجہ کا مرکز

Comments are closed.