امریکی و برطانوی فوجی اڈے پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں نے خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی
فوٹو : فائل
اسلام آباد: امریکی و برطانوی فوجی اڈے پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملہ،خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی، ہفتے کے روز برطانیہ کی وزارت دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے بحرِ ہند میں واقع امریکی و برطانوی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
یہ حملہ تہران سے تقریباً 2500 میل دور اس مقام پر کیا گیا جو مشرقِ وسطیٰ کے مرکزی تنازع سے بھی خاصا فاصلے پر ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران نے جزائر چاگوس میں واقع ڈیاگو گارشیا کے اسٹریٹیجک فضائی اڈے کی جانب دو میزائل داغے۔ ایک میزائل دورانِ پرواز ہی ناکام ہوگیا جبکہ دوسرے کو امریکی جنگی جہاز نے فضا میں ہی تباہ کردیا۔ امریکی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ میزائل کی طویل رینج نے واشنگٹن کو حیران ضرور کیا، تاہم اس کی درستگی اور کارکردگی محدود رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے نے ایران کے میزائل پروگرام کی صلاحیتوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنا زیادہ فاصلہ بڑھتا ہے، ایرانی میزائلوں کی درستگی اور کامیابی کا امکان کم ہوتا جاتا ہے، جس کا عملی مظاہرہ اس حملے میں بھی دیکھنے کو ملا۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری طاقت کو خاصا نقصان پہنچا ہے، جس میں 130 بحری جہازوں کی تباہی بھی شامل ہے۔
اس کے باوجود ایران اسرائیل اور خطے میں امریکی اتحادیوں پر ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
اسی دوران امریکہ نے غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے ایرانی تیل سے متعلق کچھ پابندیوں میں نرمی کی ہے، جس کے تحت سمندر میں موجود مخصوص کارگو کو فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں توانائی بحران کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔
دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام پر بھی خدشات برقرار ہیں۔ ایرانی میڈیا نے نتنز جوہری تنصیب پر ایک نئے فضائی حملے کی اطلاع دی ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری ڈھانچے کو صرف فضائی حملوں سے مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہے، جس کے باعث امریکہ ممکنہ زمینی کارروائی جیسے خطرناک آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی مشترکہ کارروائیاں آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کریں گی، جس سے خطے میں ایک طویل اور وسیع جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
Comments are closed.