اے آئی ٹیکنالوجی چین اسمگل کرنے کا الزام، سپر مائیکرو کے تین افراد پر فردِ جرم عائد

اے آئی ٹیکنالوجی چین اسمگل کرنے کا الزام، سپر مائیکرو کے تین افراد پر فردِ جرم عائد

فوٹو : فائل

واشنگٹن: امریکی اے آئی ٹیکنالوجی چین اسمگل کرنے کا الزام، سپر مائیکرو کے تین افراد پر فردِ جرم عائد United States Department of Justice نے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سرورز بنانے والی کمپنی Super Micro Computer سے وابستہ تین افراد پر امریکی برآمدی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کم از کم 2.5 ارب ڈالر مالیت کی AI ٹیکنالوجی چین اسمگل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے الجزیرہ نے اے پی اور روئٹرز کو رپورٹ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے دائر فردِ جرم میں کمپنی کا نام براہ راست شامل نہیں کیا گیا، تاہم سان ہوزے میں قائم سپر مائیکرو نے تصدیق کی ہے کہ اسے اس پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ اس کیس میں بطور مدعا علیہ شامل نہیں اور تفتیشی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزمان—شیان لیاو، روئی سانگ چانگ اور ٹنگ وی سن—پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی ساختہ سرورز کو Taiwan کے راستے جنوب مشرقی ایشیا منتقل کیا، جہاں انہیں بغیر شناختی نشانات کے پیک کر کے China بھیجا گیا۔

امریکہ نے 2022 سے چین کو جدید AI چپس کی برآمد پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن کی خلاف ورزی کو سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے جعلی دستاویزات تیار کیں، آڈٹ سے بچنے کے لیے فرضی آلات استعمال کیے اور اپنی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے مختلف فرنٹ کمپنیوں کا سہارا لیا۔ مزید برآں، اصل مشینوں سے سیریل نمبرز اور لیبل ہٹانے کے لیے غیر معمولی طریقے بھی اختیار کیے گئے۔

ایف بی آئی کے عہدیدار جیمز بارنیکل کے مطابق یہ ایک منظم اور پیچیدہ اسکیم تھی، جس کا مقصد امریکی برآمدی کنٹرول نظام کو دھوکہ دینا تھا۔

نیویارک کے جنوبی ضلع کے امریکی اٹارنی Jay Clayton نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں براہ راست امریکی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔

حکام کے مطابق 71 سالہ لیاو اور 44 سالہ سن کو کیلیفورنیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ چانگ تاحال مفرور ہے۔ لیاو کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے جبکہ سن کی ضمانت کی سماعت زیر التوا ہے۔

دریں اثنا، سپر مائیکرو نے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لیاو اور چانگ کو چھٹی پر بھیج دیا ہے جبکہ سن کے ساتھ تعلق ختم کر دیا ہے۔

اس خبر کے بعد کمپنی کے حصص میں آفٹر آور ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اگرچہ حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی چپس استعمال ہوئیں، تاہم ماہرین کے مطابق Nvidia کی AI چپس عالمی مارکیٹ میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ برآمدی قوانین کی سختی سے پابندی کرتی ہے اور غیر قانونی استعمال کے لیے کسی قسم کی معاونت فراہم نہیں کرتی۔

Comments are closed.