چاند کے نمونوں سے بڑی دریافت، اربوں سال پہلے سیارچوں کی نوعیت تبدیل ہوگئی
فوٹو : شنہوا فائل
بیجنگ: چینی سائنسدانوں نے چاند سے لائے گئے نمونوں کے تجزیے کے بعد ایک اہم سائنسی انکشاف کیا ہے کہ اربوں سال پہلے زمین اور چاند پر ٹکرانے والے سیارچوں کی نوعیت میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی تھی۔
چینی خبر رساں ادارے سنہوا کے مطابق یہ تحقیق چانگ ای-6 مشن کے ذریعے حاصل کیے گئے قمری نمونوں پر کی گئی۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ تقریباً 4.3 ارب سے 2.8 ارب سال پہلے کے دوران چاند اور زمین کے نظام پر گرنے والے سیارچے غیر کاربونیسیئس اقسام سے تبدیل ہو کر زیادہ تر کاربونیسیئس کشودرگرہوں میں تبدیل ہوگئے تھے۔
یہ تحقیق چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف جیولوجی اینڈ جیو فزکس کے ماہرین نے انجام دی، جس کے نتائج معروف سائنسی جریدے Journal of Geophysical Research: Planets میں شائع کیے گئے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق چاند گزشتہ 4 ارب سال کی کائناتی تاریخ محفوظ رکھنے والا قدرتی ریکارڈ ہے۔ تحقیقی ٹیم نے چاند کی مٹی سے 40 نہایت چھوٹے دھاتی ذرات الگ کیے، جو قدیم سیارچوں کے تصادم کے شواہد محفوظ کیے ہوئے تھے۔
تحقیق کے دوران ان دھاتی ذرات کو دو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ نسبتاً نئے آتش فشانی قمری پتھروں سے تعلق رکھتا تھا، جبکہ دوسرا قدیم قمری ہائی لینڈز سے وابستہ تھا، جن کی عمر تقریباً 4.3 ارب سال بتائی گئی۔
تجزیے سے معلوم ہوا کہ قدیم دور میں چاند سے ٹکرانے والے زیادہ تر سیارچے عام کونڈرائٹس اور آئرن میٹورائٹس تھے، جبکہ کاربونیسیئس کشودرگرہوں کا تناسب 8 فیصد سے بھی کم تھا۔ تاہم بعد کے ادوار میں کاربونیسیئس سیارچوں کی شرح بڑھ کر تقریباً 26 فیصد تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت زمین پر پانی کی آمد سے متعلق موجود نظریات کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ کاربونیسیئس کشودرگرہ پانی اور نامیاتی مادے سے بھرپور سمجھے جاتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ زمین پر ابتدائی پانی انہی کے ذریعے پہنچا۔
تاہم نئی تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ پانی سے بھرپور یہ سیارچے نسبتاً بعد میں زمین اور چاند کے قریب آئے، جب نظامِ شمسی میں تصادموں کی شدت پہلے ہی کم ہوچکی تھی۔ اس وجہ سے ممکنہ طور پر زمین تک پہنچنے والے پانی اور دیگر نامیاتی مادوں کی مقدار ماضی کے اندازوں سے کم رہی ہوگی۔
تحقیقی ٹیم نے اس تبدیلی کی تین ممکنہ وجوہات بھی بیان کی ہیں، جن میں دیوہیکل سیاروں کی مداری ہجرت، یارکوسکی اثر کے باعث کشودرگرہوں کے مدار میں تدریجی تبدیلی، اور بڑے کاربونیسیئس اجسام کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والا ملبہ شامل ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے محقق لن یانگٹنگ کے مطابق چاند زمین اور چاند کے نظام کی قدیم تصادمی تاریخ کا محفوظ ترین ریکارڈ ہے، جبکہ مستقبل میں مختلف قمری علاقوں سے مزید نمونے حاصل کرکے سائنسدان نظامِ شمسی کی ارتقائی تاریخ کو مزید بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔
چاند کے نمونوں سے بڑی دریافت، اربوں سال پہلے سیارچوں کی نوعیت تبدیل ہوگئی
Comments are closed.