ایرانی حملوں سے امریکہ کی پسپائی، امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی ہدایت

فوٹو : سوشل میڈیا 

اسلام آباد : ایرانی حملوں سے امریکہ کی پسپائی، امریکی شہریوں کو مشرق وسطیٰ چھوڑنے کی ہدایت، یہ فیصلہ امریکی اہداف پر ایران کے حملوں کے بعد کیا گیا اور امریکہ نے اپنے شہریوں کو خطے کے ایک درجن سے زائد ممالک چھوڑنے کا کہہ دیا جبکہ عراق میں ہلاک ہونے والے 6 فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کر دی۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے کی عمارت پر میزائل گرنے کے بعد امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سفارت خانے نے لکھا: ’جو امریکی شہری عراق میں رہنے کا انتخاب کر رہے ہیں، وہ ایران سے منسلک دہشت گرد ملیشیاؤں کی جانب سے موجود سنگین خطرے کے پیشِ نظر اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں۔‘

اس کے علاوہ، روئیٹرز کے مطابق امریکہ نے سنیچر کے روز کہا کہ اس نے عمان میں موجود غیر ہنگامی نوعیت کی خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے.

امریکی محکمۂ دفاع نے ان چھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے جو 12 مارچ کو عراق میں ایندھن بھرنے والے فوجی طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔

ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں ان کے نام یہ بتائے گئے ہیں: ہلاک ہونے والوں میں جان اے کلنر، آریانا جی ساوینو، ایشلے بی پروئٹ، سیٹھ آر کووَل، کرٹس جے اینگسٹ، اور ٹائلر ایچ سمنز شامل ہیں۔

یہ سب کے سی 135 طیارے کے عملے میں شامل تھے۔ یہ ایندھن بردار طیارہ ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔

پینٹاگون نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ امریکہ اس سے پہلے یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ طیارہ نہ تو دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بنا تھا اور نہ ہی دوست فوج کی فائرنگ اس حادثے کا باعث بنی۔

Comments are closed.