سونے کی قیمت تازہ اضافے کے بعد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
فوٹو : فائل
کراچی/اسلام آباد: سونے کی قیمت تازہ اضافے کے بعد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے،ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2 ہزار 300 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ 28 ہزار 562 روپے ہو گئی ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 1 ہزار 972 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 53 ہزار 156 روپے ہو گئی ہے۔ قیمتوں میں یہ تیزی عالمی منڈی میں سونے کے بھاؤ میں اضافے کے باعث دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونا 5058 ڈالر فی اونس، ڈالر اور معاشی غیر یقینی صورتحال اثر انداز
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 23 ڈالر اضافے کے بعد 5058 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، عالمی افراط زر (Inflation)، جغرافیائی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven Investment) کی جانب رجحان کے باعث دیکھا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق جب عالمی سطح پر سیاسی یا معاشی غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کو محفوظ اثاثہ سمجھتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری بڑھا دیتے ہیں، جس سے قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ اور یورپ کی کشیدگی، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق پالیسی بیانات اور ڈالر کی کمزوری نے بھی سونے کو تقویت دی ہے۔
مقامی مارکیٹ پر اثرات، خریدار پریشان، جیولرز کی رائے
پاکستان میں سونے کی قیمتیں براہ راست عالمی مارکیٹ اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر سے متاثر ہوتی ہیں۔ اگر عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا ہو اور ساتھ ہی ڈالر مضبوط ہو تو مقامی سطح پر قیمتوں میں دوہرا اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
صرافہ بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ مسلسل اضافے کے باعث عام خریدار، خصوصاً شادی بیاہ کے سیزن میں خریداری کرنے والے افراد، شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ جیولرز کے مطابق سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد زیورات کی فروخت میں کمی دیکھی جا رہی ہے جبکہ سرمایہ کاری کی نیت سے خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا اور روپے پر دباؤ جاری رہا تو مقامی سطح پر قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔
پس منظر: رواں سال سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ
رواں سال کے آغاز سے اب تک سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر مہنگائی، مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں اضافہ، اور عالمی تجارتی تناؤ نے قیمتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ماہرین کے مطابق سونا طویل المدتی سرمایہ کاری کے طور پر اب بھی محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم قلیل المدتی بنیادوں پر اس میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر امریکی فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کرتا ہے تو سونے کی قیمت مزید اوپر جا سکتی ہے، کیونکہ کم شرح سود کے ماحول میں سونا زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق اگر عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی قیمت 5100 ڈالر فی اونس کی سطح بھی عبور کر سکتی ہے۔ تاہم اگر ڈالر مضبوط ہوا یا جغرافیائی کشیدگی میں کمی آئی تو قیمتوں میں وقتی کمی بھی ممکن ہے۔
پاکستانی مارکیٹ میں سونے کے خریداروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ خریداری سے قبل عالمی رجحانات، ڈالر ریٹ اور مقامی صرافہ مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ ضرور لیں۔
Comments are closed.