ڈبہ پیک کمپنیاں 180 روپے والا دودھ 360 روپے فی لیٹر بیچ رہی ہیں،بزنس فورم
فوٹو : فائل
اسلام آباد: ڈبہ پیک کمپنیاں 180 روپے والا دودھ 360 روپے فی لیٹر بیچ رہی ہیں،بزنس فورم نے یہ نشاندہی کی ہے پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے ملک میں ڈبہ پیک دودھ بنانے والی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عدم ریگولیشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پی بی ایف کا کہنا ہے کہ دودھ اور ڈیری مصنوعات عوام کی روزمرہ ضرورت ہیں، مگر اس اہم شعبے پر نہ تو مؤثر نگرانی موجود ہے اور نہ ہی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی واضح نظام نظر آتا ہے۔
فورم کے مطابق اس وقت ملک میں معروف ڈبہ پیک دودھ کمپنیاں ریٹیل مارکیٹ میں دودھ 360 روپے سے 380 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کر رہی ہیں، جبکہ دودھ کی اصل خریداری قیمت، لاجسٹکس اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے باوجود 180 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں بنتی۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ صارفین سے غیر معمولی منافع وصول کیا جا رہا ہے۔
علاقائی ممالک سے قیمتوں کا موازنہ
پاکستان بزنس فورم نے اپنی رپورٹ میں خطے کے دیگر ممالک سے قیمتوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور بنگلادیش میں ٹیٹرا پیک دودھ کی فی لیٹر قیمت پاکستانی روپے میں 250 سے 270 روپے کے درمیان ہے، جو پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
پی بی ایف کا کہنا ہے کہ اگر ہم ہمسایہ ممالک میں توانائی، خام مال اور لیبر کی لاگت کا جائزہ لیں تو وہاں کے حالات پاکستان سے زیادہ مختلف نہیں، اس کے باوجود پاکستانی صارف کو مہنگا دودھ خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ فورم کے مطابق یہ صورتحال اوپن مارکیٹ میں اجارہ داری کی واضح مثال ہے، جہاں چند بڑی کمپنیاں قیمتیں من مانی طور پر طے کر رہی ہیں۔
اربوں کی آمدن، پھر بھی عوام پر اضافی بوجھ
پاکستان بزنس فورم کے مطابق ملک میں کام کرنے والی معروف ڈیری کمپنیوں کی سال 2025 کی مجموعی آمدنی 60 سے 100 ارب روپے کے درمیان رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شعبہ منافع بخش ہونے کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں۔
پی بی ایف کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی کم کرنے کے دعوے صرف بیانات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ عملی طور پر ضروری اشیائے خورونوش مزید مہنگی ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دودھ جیسی بنیادی ضرورت پر اس قدر زیادہ قیمتیں عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پر متوسط اور کم آمدن طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
احمد جواد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
-
ڈیری مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کم کر کے 7 فیصد کی جائے
-
ٹیٹرا پیک دودھ کی قیمت میں فی لیٹر کم از کم 50 روپے کی فوری کمی کرائی جائے
-
ڈبا پیک دودھ بنانے والی کمپنیوں کے کاسٹ اسٹرکچر اور منافع کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی مہنگائی پر قابو پانا چاہتی ہے تو اسے ضروری اشیاء کے شعبے میں موثر ریگولیٹری فریم ورک نافذ کرنا ہوگا، تاکہ صارفین کو استحصال سے بچایا جا سکے۔
معاشی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ دودھ جیسے بنیادی غذائی جزو کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ نہ صرف غذائی عدم تحفظ کو جنم دیتا ہے بلکہ بچوں اور بزرگوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈیری سیکٹر کو ترجیحی بنیادوں پر ریگولیٹ کرے اور قیمتوں کے تعین میں شفافیت کو یقینی بنائے۔
ڈبہ پیک کمپنیاں 180 روپے والا دودھ 360 روپے فی لیٹر بیچ رہی ہیں،بزنس فورم
Comments are closed.