وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل کی موجودگی میں بورڈ آف پیس پر دستخط کر دئیے

{"remix_data":[],"remix_entry_point":"challenges","source_tags":[],"origin":"unknown","total_draw_time":0,"total_draw_actions":0,"layers_used":0,"brushes_used":0,"photos_added":0,"total_editor_actions":{},"tools_used":{},"is_sticker":false,"edited_since_last_sticker_save":false,"containsFTESticker":false}

فوٹو : اے ایف پی

ڈیووس : وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل کی موجودگی میں بورڈ آف پیس پر دستخط کر دئیے، پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرتے ہوئے ڈیووس کی تقریب میں شرکت اور بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے.

وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو
ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت کی جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اس تقریب شامل تھے جہاں کئی ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔

مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب او قطر بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قزاقستان، پیراگوئے اور ازبکستان بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں.

گزشتہ روز پاکستان سمیت مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’تمام ممالک بورڈ میں شمولیت کی دستاویزات پر اپنے قوانین کے تحت دستخط کریں گے۔‘

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے تحت امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کے مطابق غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کو ممکن بنایا جا سکے گا۔

دوسری طرف جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ’بورڈ آف پیس کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ اور نیتن یاہو کی صورت میں کسی قسم کا کوئی امن بورڈ قبول نہیں۔

اس حوالے سے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کا ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کا مقصد مکمل جنگ بندی کا حصول، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی از سرِنو تعمیر ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں ایک دستاویز کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر کے مطابق اس میں شامل ہر ریاست برسوں کے لیے اس کی رُکن ہو گی اور چیئرمین (صدر ٹرمپ) چاہیں تو اس رُکنیت کی تجدید بھی کر سکتے ہیں۔

تین سالہ رُکنیت کی شرط کا اطلاق ان ریاستوں پر نہیں ہو گا جو ’بورڈ آف پیس‘ کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کروائیں گی۔’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر میں یہ بھی نہیں درج کیا گیا کہ ایک ارب ڈالر مہیا کرنے والے ملک اور دیگر ممالک کے اختیارات میں کیا فرق ہو گا۔

Comments are closed.