ہم دہشت گردوں کی ڈنکے کی چوٹ پر مخالف ہیں ،ان کوآباد کرنے والوں کے بھی مخالف ہیں، سہیل آفریدی
فوٹو : اسکرین شاٹ
کراچی : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہناہے ہم دہشت گردوں کی ڈنکے کی چوٹ پر مخالف ہیں ،ان کوآباد کرنے والوں کے بھی مخالف ہیں، سہیل آفریدی نے کہا "وفاق صوبائی حکومت، سیاسی جماعتیں، ادارے مل بیٹھیں تو امن ہوگا،” وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا امن کیلئے وزیراعظم بلائیں تو تب بھی جاوں گا.
جمعہ کو کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کراچی کا جلسہ تاریخی ہوگا، ہم اتوار کو جلسہ کریں گے، جلسے کی درخواست دی ہے تاہم ابھی تک جواب نہیں آیا کہ جلسے کی اجازت ملی ہے یا نہیں، کراچی میں جلسے کی تیاریاں مکمل ہیں، میرے قائد بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مجھے اسٹریٹ مومنٹ کی تیاری کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے انتظار کرنے پر صحافی برادری سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی والوں نے پرجوش استقبال کیا، ایئرپورٹ سے کراچی پریس کلب کا راستہ 6 گھنٹے میں طے کیا، کراچی پریس کلب میں حلف برداری نہیں ہوتی، اچھی بات ہے لوگ حلف لے کر اس کی پاسداری نہیں کرتے، یہ پریس کلب کی اچھی روایت ہے، تمام سرکاری اداروں میں یہ روایت ہونی چاہیے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی اپنی تنظیم کے دوستوں سے ملا، پنجاب کی جعلی حکومت ہمارے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھا، جس ہوٹل میں کھانا کھانے جاتے وہ ہوٹل بند کر دیا جاتا، تاہم یہ بھی کہا جنھوں نے ہماری بے توقیری کی کبھی خیبرپختونخوا آئے تو انھیں دکھائیں گے مہمان نوازی کیا ہوتی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو تنہائی میں دہشت گردوں کی جگہ رکھا ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی مقبول ترین لیڈر ہے، میرے لیڈر کی حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ختم کیے گیا، عوام کے مینڈیٹ پر بدترین ڈاکا ڈالا گیا، ہماری جنگ ذات اور پارٹی کی نہیں ہم سب کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ارشد شریف کی مثال سب کے سامنے ہے، صحافیوں کے ساتھ جو سلوک ہوا سب نے دیکھا۔
سہیل آفریدی نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں واحد خیبرپختونخوا حکومت ہے، کے پی کے حکومت عوامی مینڈیٹ کے ساتھ آئی جب کہ باقی حصوں میں حکومت جعلی مینڈیٹ کے ساتھ آئی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور صحافی لازم و ملزوم ہیں، ہم مل کر ملک میں حقیقی جمہوریت لاسکتے ہیں۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ کون سا آئین کہتا ہے ایک صوبے کا چیف ایگزیکٹیو دوسرے میں سیاست نہیں کرسکتا، وہ شق مجھے دکھا دیں میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ ہم صرف ٹی ٹی پی نہیں بلکہ تمام دہشت گرد تنظیموں کی مخالفت کرتے ہیں، خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز سے امن قائم نہیں ہوگا، کے پی میں آپریشن کا مقصد عمران خان اور پی ٹی آئی کو ختم کرنا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی تین روزہ دورے کے سلسلے میں دوپہر 1 بج کر 55 منٹ پر کراچی پہنچے اور پھر ریلی کی قیادت کرتے ہوئے باغ جناح پہنچے۔ جہاں انہوں نے اتوار کو ہونے والے انتظامات کا جائزہ لیا۔
ایئرپورٹ سے باغ جناح اور پھر کراچی پریس کلب تک جگہ جگہ وزیراعلیٰ اور اُن کے ساتھ چلنے والی ریلی کا استقبال کیا گیا جبکہ اس موقع پر پی ٹی آئی کے کارکنان بانی کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے۔
باغ جناح سے وزیراعلیٰ قافلے کی صورت میں کراچی پریس کلب پہنچے جہاں میٹ دی پریس سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے حوالے سے میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، خیبر پختونخوا میں امن ملٹری آپریشن سے قائم نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اگر مجھے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات چیت پر بلائیں گے تو میں لازمی جاؤں گا، وفاق ۔کے پی حکومت ۔سیاسی جماعتیں اور سیکورٹی ادارے مل کرخیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے راستہ نکالیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کسی سے بھی قسم کے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کے پاس ہے وہی یہ معاملہ دیکھیں گے۔بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی رہائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ شروع کی ہے اور اس سلسلے میں 11 جنوری کو باغ جناح کراچی میں پی ٹی آئی کی جانب سے جلسہ بھی منعقد کیا جارہا ہے۔
وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی نے صحافیوں سے تاخیر سے پہنچنے پر مذرت کی اور کہا کہ کارکنان کے بہترین استقبال کی وجہ سے میں دیر سے پہنچا ہوں ۔میرا یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ عمران خان نے مجھے ذمہ داری دی ہے کہ اسٹریٹ موومنٹ کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پنجاب گیا وہاں جو رویہ پنجاب میں ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ساتھ کیا وہ شدید افسوسناک ہے، ہمیں وہ رویہ بالکل اچھا نہیں لگا۔ابھی عمران خان کی ہدایت پر سندھ کے دارالحکومت کراچی میں آیا ہوں میں یہاں اپنے تنظیمی اور سندھ کے دوستوں سے ملوں گا۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے جلسے کی درخواست دی ہوئی تھی ہم نے تمام لوازمات پورے لیے ہیں لیکن ابھی تک ہمیں جواب نہیں ملا ہے، ہم ان شاء اللہ 11 کو کراچی میں جلسہ کرنے جارہے ہیں جو تاریخی جلسہ ہوگا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ میرے لیڈر عمران خان نے حقیقی آزادی کی تحریک میں اقتدار پانا نہیں بلکہ اس میں آزاد قانون ، آزاد میڈیا کی بحالی ہے، جس وجہ سے انکو یہ سزا ملی کہ وہ نا حق قید میں ہیں۔انکی بیگم بشری بی بی نا حق قید میں ہیں عمران خان کی بہنیں اپنے بھائی سے ملنے اڈیالہ جاتی ہیں انکو ملنے نہیں دیا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو بنیادی قید میں انسانی حقوق ہیں لیکن وہ ہمارے لیڈر عمران خان کو نہیں دیے جارہے ہیں،عمران خان کی فیملی سے ان کے رفقاء سے ملاقات نہیں ہونے دی جارہی ہے۔میرا قائد سب سے مقبول ترین لیڈر ہے۔ میرے لیڈر عمران خان کی حکومت کو 9 اپریل کو غیرقانونی طور پر ختم کیا گیا، ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔ ہماری جنگ ذات کی نہیں اپ سب کی جنگ ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے صحافیوں کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا۔ وہ سب جانتے ہیں میں نام لے کر تھک جاؤنگا لیکن نام ختم نہیں ہونگے، آپ سب میڈیا والوں نے ہمارا ساتھ دینا یے، یہاں بھی وہی فسطائیت شروع ہے جو سب دیکھ رہے ہیں، صحافتی برادری اور سیاست دانایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں ابھی تک ہمیں زرداری کی حکومت نظر آرہی ہے ، بھٹو کی حکومت نہیں ہے لیکن ہم ابھی مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی عوام پاکستان تحریک انصاف سے مطمئن ہے، پورے پاکستان میں خیبرپختونخوا کی حکومت عوام کے ووٹوں سے آئی ہے، عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں جس وجہ سے تیسری بار عوام نے عمران خان کو موقع دیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ یہ کون سے آئین میں لکھا ہے کہ اس وزیراعلیٰ کسی دوسرے صوبے میں سیاست نہیں کرسکتا، اگر آپ مجھے وہ قانون دکھا دیں تو ابھی واپس چلا جاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے حوالے سے میرا موقف ہے وہ میں بار بار دے چکا ہو، ہم نے امن جرگہ کیا، جس میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو جمع کیا اور اس معاملے میں تمام سیاسی مذہبی جماعتیں اس پر ہمارا ساتھ دے رہی ہیں کہ ملٹری آپریشن نہیں کریں۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، میں اسٹریٹ مومنٹ کی تیاری کررہا ہوں، مذاکرات کا جو معاملہ ہے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کے پاس ہے وہی یہ معاملہ دیکھیں گے۔ہمارا جھگڑا یہی ہے کہ ہم سے ملٹری آپریشن سے پہلے کوئی اجازت نہیں مانگتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت اتنی مضبوط ہو کہ سب اپنی حدود میں کام کریں۔وزیراعلیٰ نے مزید نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں میری حکومت کو دو مہنیے ہو چکے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ہمارے خیبرپختونخوا میں قبائلی شامل ہوں، ہمارے پاس این ایف سی پر بہت بڑا حصہ ہے، صوبہ سندھ نے بھی اس پر یقین دہانی کروائی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق پر کے پی کے کا 4 ہزار 798 ارب روپے واجبات ہیں، ہم نے سنا ہے پنجاب میں 100 ارب کی کرپشن ہوئی ہے، وہ دس ہزار ارب سے زائد کھا چکے ہیں، کے پی کے کو اس کا حق دیا جائے۔خیبرپختونخوا کو اس کے پسے مل جائیں تو ڈیم بنائیں ۔خیبرپختونخوا میں سستی بجلی بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس کا شناختی کارڈ خیبرپختونخوا کا ہے، وہاں 20 لاکھ کا صحت کارڈ مل رہا ہے، این ایف سی کے معاملہ میں چاہتا ہوں کہ کراچی پریس کلب ہمارے حق کے لیے آواز اٹھائے۔ ہم اپنے جنگلوں کو بہتر کرسکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا مکہ مکرمہ کی حرمت پر ہر مسلمان اپنی جان قربان کرتے ہیں وہ جگہ احتجاج کے لیے نہیں ہے۔ آپ کسی سے نفرت بھی کرتے ہوں تو وہ جگہ نہیں ہے کہ وہاں اس قسم کا کام ہو، یہ ہماری تربیت نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جنہوں نے ہماری بے عزتی اور بے توقیری کی تھی ہم کہتے ہیں کے پی کے آئے تو ہم بتائیں کہ عزت کیسے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جو قدرتی وسائل ہیں اس پر حق ہماری عوام کا ہے ہم اپنے عوام کی حقوق کی حفاظت کرنے کے پابند ہیں، اگر کوئی پرائیویٹ پارٹی آتی ہے تو ہم سے بات کرے عوام کے حقوق کا خیال رکھے تو ہم بات کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جب رجیم ہوا تو باجوڑ سے لے کر شانگلہ تک لوگوں نے احتجاج کیا، دہشت گردوں کو ہم پر مسلط کیا جارہا تھا تو ہم نے اس پر مسلسل احتجاج کیا، آپ امن پاسون اٹھا کر دیکھ لیں کہ ہم نے کیا کہا ہے مراد سعید کو سن لیں۔
ہم ہر دہشت گردوں کی مخالف ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر مخالفت کرتے ہیں، جو انکو لاکر آباد کرتے ہیں ہم ان کے بھی خلاف ہیں۔پی ٹی آئی واحد سیاسی جماعت تھی، جس نے کہا کہ جو دہشت گرد بھگائے ہیں ان کو واپس آباد نہ کریں اس کا ریکارڈ موجود ہے ۔پتہ نہیں ان کو کیوں آباد کیا تھا۔ہم صرف ٹی ٹی پی نہیں بلکہ تمام دہشت گرد تنظیموں کی مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چودہ ہزار آپریشن ہوچکے ہیں مزید 15 ہزار آپریشن ہونے جارہے ہیں، جب 14 ہزار کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو مزید آپریشن کی پھر کیا وجہ ہے، ماضی میں آپریشن کے دوران جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے ۔جو لوگ قربانیاں دے رہے ہیں انکی قدر تک نہیں کی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کا مقصد پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کو ختم کرنا ہے۔کے پی کے نے دہشت گردی کے خاتمہ کیا، جنگ میں 80 ہزار سے زائد قربانیاں دی ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پورا پاکستان ترقی کرے ، کے پی کے کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوتا ہے، جب مزاحمت ہوگئی تو مفاہمت ہوگی اور راستہ نکلے گا جس کے بعد عمران خان باہر آجائیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جب دہشت گرد آئیں گے تو وہ امن نہیں پھیلائیں گے، اگر وزیر اعظم دہشت گردی کے خلاف بات چیت کے لیے دعوت دیں گے تو 100 فیصد جاؤں گا کیونکہ میرا صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہے، وفاق ، صوبائی حکومت ،سیاسی جماعتیں اور سیکورٹی ادارے ملکر طے کریں امن کیسے ہوگا تو مثبت نتائج نکلیں گے۔
Comments are closed.