امریکہ کاوینزویلا پرحملہ،صدر مادورو کو گرفتار ی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، چین

امریکہ کاوینزویلا پرحملہ،صدر مادورو کو گرفتار ی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، چین

فوٹو : سوشل میڈیا

اسلام آباد : امریکہ کاوینزویلا پرحملہ،صدر مادورو کو گرفتار ی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، چین کا امریکی حملہ پر سخت ردعمل، چین نے امریکا سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس اقدام پر چین شدید تشویش میں ہے۔

وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں زور دیا گیا ہے کہ امریکا مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی سلامتی کو یقینی بنائے اور انہیں فوراً رہا کرے۔

چین نے یہ بھی کہا کہ امریکا وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں بند کرے اور تمام مسائل کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔

چین کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے وینزویلا میں کارروائی کرتے ہوئے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا۔

چین نے اس کارروائی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے اور صدر نکولس مادورو گرفتاری کی گئی جس کے بعد انھیں نیویارک پہنچا دیا گیا ہے اُنھیں ان کی اہلیہ سمیت گزشتہ روز ان کے ملک سے گرفتار کیا گیا تھا، گوانتاناموبے سے اڑان بھرنے والا خصوصی طیارہ نیویارک کے اسٹیورٹ ایئرپورٹ پر اترا پھر انھیں ڈیٹین سینٹر منتقل کر دیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق صدر مادورو اور ان کی اہلیہ اس وقت امریکی تحویل میں ہیں اور نیویارک میں ان پر باضابطہ فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی حکام نے بتایا کہ صدر مادورو کو طیارے سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نیویارک شہر منتقل کیا گیا۔ وہاں اب ان کی ابتدائی قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی جس کے بعد انہیں میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر جیل منتقل کیا جائے گا۔

یہ جیل نیویارک میں واقع ایک ہائی سیکیورٹی وفاقی جیل ہے جہاں سنگین نوعیت کے مقدمات میں زیر حراست افراد کو رکھا جاتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نکولس مادورو کو پیر کی شام تک عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جہاں ان کے خلاف عائد الزامات پر ابتدائی سماعت متوقع ہے۔

اس سے پہلے ہفتے کو امریکہ نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی۔ امریکی جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز نے دارالحکومت کاراکس پر نچلی پروازیں کرتے ہوئے بمباری کی، جس کے نتیجے میں فوجی ہیڈکوارٹر، قانون ساز اسمبلی کی عمارت اور ایک اہم ائربیس کو شدید نقصان پہنچا۔

کاراکاس کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں اتنی شدید تھیں کہ آس پاس کے مکانات لرز اٹھے اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

امریکی حکام کے مطابق صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لینے کے لیے ایک مشترکہ خصوصی آپریشن کیا گیا جس میں امریکی نیوی، فضائیہ اور ڈیلٹا فورس نے حصہ لیا۔ اس آپریشن کے دوران جدید جنگی طیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا.

پہلے مرحلے میں وینزویلا کا دفاعی نظام مفلوج کیا گیا، امریکی بیان کے مطابق کارروائی وینزویلا کے مقامی وقت کے مطابق رات کے وقت کی گئی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل ہوئی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران محدود مزاحمت کا سامنا ہوا تاہم امریکی فورسز بحفاظت اپنے ہدف کو لے کر روانہ ہو گئیں۔

امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق صدر مادورو پر منشیات اسمگلنگ، دہشت گردی اور امریکہ کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیار حاصل کرنے کی سازش جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب تک وینزویلا میں نئی حکومت قائم نہیں ہو جاتی، امریکہ وہاں کے معاملات کی نگرانی کرے گا اور امریکی تیل کمپنیاں بھی وینزویلا جائیں گی۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ وینزویلا کو خوشحال اور مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری ممکن بنانا چاہتا ہے۔

Comments are closed.