کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ میں ادویات کا بحران، مریض رل گئے
فوٹو : فائل
مانسہرہ (شکیل تنولی )کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ میں ادویات کا بحران، مریض رل گئے، خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے بلند بانگ دعوے مانسہرہ کے کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال میں بری طرح بے نقاب ہو گئے ہیں، جہاں بیشتر ضروری سرکاری ادویات ناپید ہیں۔
مانسہرہ کے ڈسٹرکٹ اسپتال میں صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ مریضوں کے لواحقین ہسپتال کے باہر قائم نجی میڈیکل اسٹورز پر اپنے شناختی کارڈ گروی رکھ کر ادھار ادویات لینے پر مجبور ہیں، تاکہ اپنے پیاروں کی جان بچا سکیں۔
ہسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے مطابق بخار، انفیکشن، بلڈ پریشر، شوگر، اینٹی بایوٹک اور ایمرجنسی میں استعمال ہونے والی ادویات اکثر دستیاب نہیں ہوتیں۔
ڈاکٹر صاحبان نسخے لکھ دیتے ہیں مگر مریضوں کو ہسپتال کی فارمیسی سے خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔ غریب اور نادار مریضوں کے لیے یہ صورتحال کسی عذاب سے کم نہیں۔
عوامی حلقوں نے الزام لگایا ہے کہ ہسپتال سے سرکاری ادویات کا غائب ہونا محض انتظامی نااہلی نہیں بلکہ ایک منظم مافیا کی کارستانی ہے، جو سرکاری ادویات کو نجی میڈیکل اسٹورز تک پہنچا کر منافع کما رہا ہے،
مریض ذلت اور مجبوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت اربوں روپے ادویات کی خریداری پر خرچ کر رہی ہے تو پھر یہ ادویات آخر کہاں جا رہی ہیں؟
متاثرہ لواحقین نے الزام عائد کیا کہ کئی بار شکایت کے باوجود ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ مریضوں نے نمائندہ "زمینی حقائق” کو بتایا کہ شناختی کارڈ گروی رکھ کر دوا لینا نہ صرف تذلیل آمیز ہے بلکہ یہ ریاستی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔
مریضوں اور ان کے لواحقین نے حکومتِ خیبر پختونخوا، وزیر اعلیٰ، سیکرٹری صحت اور احتسابی اداروں سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے.
انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کنگ عبداللہ ہسپتال میں ادویات کے ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، اور ادویات کی مبینہ چوری و فروخت میں ملوث ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، کیونکہ عوام کی جانوں کے ساتھ یہ کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
Comments are closed.