جنگ کے بعد پاک بھارت پہلا باضابطہ رابطہ، ایٹمی تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کاتبادلہ
فوٹو : فائل
اسلام آباد: جنگ کے بعد پاک بھارت پہلا باضابطہ رابطہ، ایٹمی تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کاتبادلہ کیا گیاہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی روشنی میں کیا گیا،پاکستان اور بھارت کے درمیان نئے سال کے آغاز پر فہرستوں کا یہ سالانہ تبادلہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ دونوں ممالک نے یکم جنوری کو جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستیں ایک دوسرے کے حوالے کیں۔
بتایا گیا ہے کہ یہ تبادلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہے، جس کا مقصد حساس تنصیبات کو حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
ترجمان کے مطابق نئے سال کے موقع پر قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی عمل میں آیا، جس کے تحت پاکستان نے 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی، جبکہ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنی تحویل میں موجود 424پاکستانی قیدیوں کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو فراہم کی۔
انڈیانے کرکٹرز کو شیک ہینڈ سے بھی روکا، وزیر خارجہ شنکر خود پاکستانی سپیکر سے آملے
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات کے تبادلے سے متعلق معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 31 دسمبر 2008 کو طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو اپنی جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی تفصیلات ایک دوسرے کو فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ اس معاہدے پر دونوں ممالک مسلسل عمل کر رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ میں کہا کہ پاکستان یمن میں امن کی بحالی کیلئے جاری علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور تنازعے کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔
اس کے علاوہ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو الگ ملک تسلیم کرنے کے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
Comments are closed.