پتنگ بازی کی اجازت بھی اور غیر قانونی پتنگ بازی بھی؟ پنجاب میں دوہرا معیار
فوٹو : فائل
لاہور: پتنگ بازی کی اجازت بھی اور غیر قانونی پتنگ بازی بھی؟ پنجاب میں دوہرا معیار ہونے پر عوام کنفیوژن کا شکار ہیں، صوبائی کابینہ نے تین دن کی اجازت دی اور اس دوران قانونی و غیرقانونی کے دو معیار بھی قائم کر دئیے ہیں، انسانی جانوں کے ضیاع کے باعث کئی سال سے پتنگ بازی پر پابندی بھی صوبائی حکومت نے خود اُٹھائی ہے.
اب محکمہ داخلہ پنجاب کی طرف سے صوبے بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی پر سختی سے عملدرآمد کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں، مراسلہ صوبائی کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو ارسال کیا گیا۔
مراسلہ کے ذریعے حکام نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب نے صوبہ کے بعض علاقوں میں غیر قانونی پتنگ بازی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور صوبے بھر میں ’کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025‘ کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے، صوبائی کابینہ نے قانون کے مطابق صرف 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں محدود پیمانے پر محفوظ بسنت کی اجازت دی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ مقررہ وقت سے قبل کسی بھی مقام پر پتنگ بازی یا پتنگ بنانے کی مکمل ممانعت ہے، غیر قانونی پتنگ بازی انسانی جانوں اور عوامی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور گزشتہ برسوں میں اس کی وجہ سے کئی راہگیروں کے زخمی ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
صوبائی محکمہ داخلہ نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے، اور خطرناک پتنگ بازی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی، جشن بہاراں کے دوران صرف ثقافتی سرگرمی کے طور پر محفوظ بسنت کی اجازت ہوگی، تاہم تندی، دھاتی ڈور یا مانجھا لگی ڈور کے استعمال کی کسی صورت اجازت نہیں ہوگی۔
غیر قانونی پتنگ سازی یا فروخت کرنے والے بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزا کے تحت آ سکتے ہیں، پتنگ بنانے والوں، سامان فراہم کرنے والوں اور پتنگ بازی میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تمام کارروائیاں کائٹ فلائنگ ریگولیشنز بل 2025 کے مطابق ہوں گی۔
محکمہ داخلہ کی طرف سے تمام اضلاع کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہدایات پر عملدرآمد کی مکمل رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو ارسال کریں، عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ بسنت کے دوران بھی قوانین کی پاسداری کریں اور محفوظ طریقے سے اس تہوار کو منائیں۔
واضح رہے پنجاب کابینہ نے صرف لاہور والوں کو پتنگ اُڑانے کی اجازت دی پنجاب کے باقی شہروں میں ایسی کسی سر گرمی کی اجازت نہیں ہے، انسانی جانوں کے ممکنہ ضیاع کے الزام سے بچنے کیلئے اجازت کو قانونی و غیرقانونی میں تقسیم کر دیا گیا حالانکہ پتنگ بازی پر پابندی سے شہری زیادہ محفوظ تھے.
Comments are closed.