پاک فوج کے صرف 21 دن میں 4910 آپریشنز، 206 دہشتگرد مارے گئے، ڈی جی آئی ایس پی آر

فوج کے اندر کسی نئے عہدے کی تخلیق یا کسی عہدے کی تبدیلی حکومت کا اختیار ہے، ترجمان پاک فوج

فوٹو : فائل 

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 206 دہشتگرد مارے گئے۔ رواں سال کے دوران ملک بھر میں 67023 آئی بی اوز کئے گئے، جن میں سے خیبر پختونخوا میں 12857 اور بلوچستان میں 53309 آپریشن شامل ہیں۔

سال 2025 میں اب تک 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے، جن میں 136 افغان شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاک افغان بارڈر مینجمنٹ سے متعلق کئی گمراہ کن بیانیے پھیلائے جا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی افغان سرحد 1229 کلومیٹر طویل ہے جس پر 20 کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں، جبکہ بعض مقامات پر بارڈر پوسٹس کا فاصلہ 25 کلومیٹر تک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک اسے آبزرویشن اور فائر سے کور نہ کیا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں اور مشکل جغرافیہ کو آمد و رفت پر قابو پانے میں رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دو طرفہ ہوتی ہے، لیکن افغان طالبان دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے مکمل سہولت کاری کرتے ہیں۔

ان کے مطابق افغان بارڈر سے متصل علاقوں میں مؤثر گورننس اور انتظامی نظام کی عدم موجودگی صورتحال کو مزید پیچیدہ کرتی ہے۔ یہاں پولیٹیکل، ٹیرر اور کرائم کا مضبوط گٹھ جوڑ موجود ہے جسے خوارج کی تنظیمیں سہولت فراہم کرتی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سخت سوال اٹھایا کہ:“اگر سرحد پار سے دہشتگرد آرہے ہیں، گاڑیاں اور اسلحہ اسمگل ہو رہا ہے تو اندرون ملک اس کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟”
نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو دہشتگردی میں استعمال ہونے والا خطرناک عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں بھی اسی گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں۔

افغان طالبان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ افغانستان میں القاعدہ، داعش اور دیگر تنظیموں کے مراکز موجود ہیں جن کی قیادت وہیں سے سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں جنہیں افغانستان نظر انداز نہیں کر سکتا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر افغان طالبان کا مؤقف ہے کہ خوارج “مہمان” ہیں تو یہ مؤقف غیر منطقی ہے۔ “یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟ اگر یہ پاکستانی ہیں تو ہمیں حوالے کریں۔”

انہوں نے SIGAR رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی افواج 7.2 بلین ڈالر کا فوجی سامان افغانستان میں چھوڑ کر گئی تھیں، جو اب خطے کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔
افغان طالبان کی حکومت کو غیر نمائندہ قرار دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان کی 50 فیصد خواتین اور مختلف قومیتوں کی اس حکومت میں کوئی نمائندگی نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مسئلہ افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم سے ہے۔
تجارت کی بندش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ خونریزی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 366,704 جبکہ 2025 میں اب تک 971,604

افراد واپس بھیجے جا چکے ہیں۔
صرف نومبر 2025 میں 239,574 افغان مہاجرین وطن واپس لوٹے۔

بھارتی بیانات کو خود فریبی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کے “سندور آپریشن” سے متعلق بیانات جھوٹ پر مبنی ہیں۔
“جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملے ہوں اور S-400 تباہ ہو جائیں تو ایسی فلم ان کیلئے ہارر فلم ثابت ہو گی۔”

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بیرون ملک سے چلنے والے X (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹس کو پاکستان کے خلاف زہریلا بیانیہ پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ ریاست مخالف پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دہشتگردی کا حل نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے نفاذ میں ہے۔ بلوچستان میں اس کا مؤثر نظام موجود ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں کمی محسوس کی جاتی ہے۔
بلوچستان میں 27 اضلاع پولیس کے دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں جو صوبے کا 86 فیصد حصہ ہے۔

ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کو دہشتگردی کی بڑی معاونت قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آرمی، ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن کے بعد یومیہ اسمگل شدہ ڈیزل 20.5 ملین لیٹر سے کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر رہ گیا ہے۔
اس رقم کا بڑا حصہ بی ایل اے اور BYC کو جاتا تھا۔

بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی اداروں کی یومیہ 140 اور ماہانہ 4000 انگیجمنٹس کو خطے میں امن کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ:
“ہمارے ہاں اچھے یا برے دہشتگرد کی کوئی تقسیم نہیں۔ ہمارے لئے اچھا دہشتگرد وہی ہے جو جہنم واصل ہو چکا ہو۔”

پاک فوج کے صرف 21 دن میں 4910 آپریشنز، 206 دہشتگرد مارے گئے، ڈی جی آئی ایس پی آر

Comments are closed.