وزیراعظم کا بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان

44 / 100

فائل:فوٹو
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7 روپے 41 پیسے جبکہ صنعتی صارفین کے لئے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ دور میں بجلی کے زائد نرخ نے لوگوں کو بے روزگار کیا، بجلی کا بل بھرنے والا سوچتا تھا کہ بچے کی دوائی کیسے خریدوں؟

بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکیج کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب کے شرکاء اور قوم کو عید کی مبارکباد پیش کی اور کہا آج عید کے موقع کی مناسبت سے پاکستان کی معاشی ترقی و استحکام کیلئے ایک ادنیٰ سے خوش خبری سنانے کیلئے آیا ہوں۔
تقریب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اویس لغاری، محمد اورنگزیب، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، رانا تنویر حسین، حنیف عباسی، شزا فاطمہ، مصطفیٰ کمال سمیت حکومتی عہدیداران نے شرکت کی۔علاوہ ازیں رہنما مسلم لیگ (ن) خواجہ سعد رفیق، بزنس کمیونٹی اور پارلیمنٹ کے ممبران بھی تقریب میں شریک ہوئے ۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج عید کے موقع کی مناسبت سے پاکستان کی معاشی ترقی و استحکام کے لیے ایک ادنیٰ سے خوش خبری سنانے کے لیے آیا ہوں، اللہ کے فضل سے وہ وعدہ پورا ہوا جس کا نواز شریف نے ن لیگ کے منشور میں اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری سنبھالی تو ملک ڈیفالٹ ہونے والا تھا، آئی ایم ایف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا، پوری قوم خوف زدہ تھی کی حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، ہم نے انتہائی دشوار گزار سفر طے کیا اور ملک کو ڈیفالٹ سے باہر لے آئے۔پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کرنے والے خوشی سے مرے جارہے تھے کہ پاکستان اب دیوالیہ ہوکر رہے گا مگر ایسا نہ ہوا، یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور اسے توڑا۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں کھلے دل کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس سارے عمل میںآ رمی چیف جنرل سید محمد عاصم منیر اور ان کے رفقائے کار کا مجھے اور میری ٹیم کو بھرپور تعاون حاصل رہا اور کلیدی کردار رہا۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ دور میں بجلی کے زائد نرخ نے لوگوں کو بے روزگار کیا، بجلی کا بل بھرنے والا سوچتا تھا کہ بچے کی دوائی کیسے خریدوں؟ یہ عوام کا قربانی بھرا دور ہے، آج میں ایک ادنی سا تحفہ قوم کو دینا چاہتا ہوں، قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، ہمارے قائد نواز شریف مشنور میں کہا تھا کہ مہنگائی 2026ء میں سنگل ڈیجٹ میں لے آئیں گے مگر یہ وعدہ 2025ء میں ہی پورا ہوگیا، ایک سال میں پیٹرول کی قیمت میں 38 فیصد کمی آئی، اس پورے خطے میں پیٹرول کی قیمت سب سے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال محصولات کی وصولی میں 35 فیصد اضافہ کرنے جارہے ہیں، گزشتہ سال یہ شرح 30 فیصد تھی، اس سے قرض لینے میں کمی آجائے گی یہی بہتر ہے کہ ہم اپنی آمدنی خود پیدا کریں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی زائد قیمت ترقی کی راہ میں ہمالیہ کی مانند رکاوٹ ہے، ہماری زراعت، ایکسپورٹ اور صنعت کچھ بھی ترقی نہیں کرسکتی، جو ہوگیا سو ہوگیا، ہم ایک مشکل سفر طے کرکے آئے ہیں، بجلی سے متعلق بنائی گئی ٹاسک فورس یہاں موجود ہے جس نے دن رات کوششیں کیں جس نے بڑی مشکل سے آئی ایم ایف کو منایا، انہوں نے اچھے اچھے آپشن پیش کیے مگر آئی ایم ایف نے ہم نے انکار کیا، ہم نے پھر کوششیں کیں خدا خدا کرکے کفر ٹوٹا اور آئی ایم ایف راضی ہوا یوں سمجھیں کہ آئی ایم ایف نے ہم پر احسان کیا اور بجلی کی قیمت میں کمی کی اجازت دی۔

آئی پی پیز کے معاملے پروزیراعظم نے کہا کہ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، آئی ایم ایف سے کہا کہ آپ نے بہت کمالیا اب قوم کو کچھ دیں اور بات کریں، اس ٹاسک فورس نے جس طرح آئی پی پیز سے بات کی اسے سراہا جائے، ٹیم کو سردار اویس لغاری نے لیڈ کیا، جنرل ظفر، محمد علی، سیکریٹری پاور و دیگر مبارک باد کے مستحق ہیں، اس ٹیم نے قوم کے تین ہزار 696 ارب روپے بچائے ہیں یہ وہ رقم ہے جو اگلے برسوں میں ادا ہونے جارہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کا سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضہ دو ہزار 393 ارب روپ کا ہے اس کا بھی بندوبست کرلیا گیا ہے اگلے پانچ برس میں یہ قرضہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا اور گردش نہیں کرے بشرط یہ کہ ہم اپنا چال چلن تبدیل کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنکو پاور پلانٹس سالہا سال سے بند پڑے ہیں ایک یونٹ پیدا نہیں ہورہا مگر سالانہ اربوں روپے دیے جارہے ہیں اس سے بڑا ظلم قوم پر کیا ہوگا؟ نقصان قوم کے بلوں میں جارہا ہے، یہ کینسر ہے جسے جڑ سے کاٹنا ہوگا، ہدایت دی کہ اس جنکو پلانٹ کو شفاف طریقے سے بیچ جائے، قبل ازیں ایک پاور پلانٹ بیچا ہے بند شدہ جو 9 ارب روپے میں بیچا ہے اس کا سالانہ سات ارب روپے خرچہ تھا، یہ کسی ایک حکومت کا پیدا کردہ نہیں 77 سالہ بوجھ ہے۔

Comments are closed.