اگرایران نے جوہری معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے،صدرٹرمپ کی دھمکی

42 / 100

فائل:فوٹو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر جوہری معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے حوالے خط کے جواب پر امریکی صدر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران جوہری معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدرٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے حال ہی میں ایران کو ایک خط بھیجا جس میں کہا کہ آپ کو فیصلہ کرنا ہو گا، یا تو ہمیں بیٹھ کر بات کرنی ہوگی یا پھر بہت برا ہو گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ میری سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاملہ حل کریں لیکن اگر ہم اسے حل نہ کر سکے تو ایران کے لیے بہت بری چیزیں ہونے والی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے مارچ کے آغاز میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے جوہری معاہدے پر مذاکرات کیلئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیجا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے دو طرح سے نمٹا جاسکتا ہے، ایک راستہ تو عسکری ہے اور دوسرا یہ کہ معاہدہ کیا جائے، میں معاہدہ کرنا چاہوں گا کیونکہ میں ایران کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ امید ہے ایران مذاکرات کرنا چاہے گا لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا متبادل یہ ہے کہ پھر ہمیں کچھ کرنا پڑے گا کیونکہ ہم ایک اور جوہری بم نہیں بننے دے سکتے۔
اس دوران ٹرمپ نے ایران پر اضافی پابندیوں اور مذاکرات سے انکار کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔
دوسری جانب ایران نے موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا تھا لیکن بالواسطہ مذاکرات کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔
جمعرات کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ایران نے عمان کے ذریعے ٹرمپ کے خط کے جواب میں ایک خط بھیجا ہے جس میں موجودہ صورتحال اور ٹرمپ کے خط کے حوالے سے ایرانی نقطہ نظر کو واضح کیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی کی طرح اب بھی امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اعلیٰ حکام کو لکھے گئے خط میں ایران کو نئے جوہری معاہدے کے لیے 2 ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔

Comments are closed.