یورپی یونین میں قابلِ قبول سافٹ اسکلز سرٹیفکیٹ، اوورسیز پاکستانیوں کو مفت سہولتوں کی فراہمی جاری

قائمہ کمیٹی

فوٹو : فائل 

اسلام آباد: آج پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیوں کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ضمیر حسین گھمرو کی صدارت میں ہوا ، جس میں بتایا گیا "یورپی یونین میں قابلِ قبول سافٹ اسکلز سرٹیفکیٹ، اوورسیز پاکستانیوں کو مفت سہولتوں کی فراہمی جاری ہے اجلاس میں او پی ایف اور متعلقہ اداروں کے حکام نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے جاری مختلف پروگرامز اورسہولتوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سافٹ اسکلز کا سرٹیفکیٹ یورپی یونین کے تمام ممالک میں قابلِ قبول ہے، جسے پانچ دن کی فزیکل اور آن لائن ٹریننگ کے بعد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت چار لاکھ آٹھ ہزار افراد اس پروگرام کے تحت زیرِ تعلیم ہیں جبکہ چار لاکھ تریپن ہزار طلبہ کو ٹیکنیکل ایجوکیشن بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

حکام نے بتایا کہ سافٹ اسکلز سرٹیفکیٹ بالکل مفت دیا جا رہا ہے اور اس پروگرام پر اب تک تین ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ سافٹ اسکلز کا مقصد بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کو رولز، طریقہ کار، مؤثر گفتگو، سوشل میڈیا کے درست استعمال اور میزبان ملک کے قوانین و اقدار سے آگاہ کرنا ہے۔ حکام نے کہا کہ ماضی میں یو اے ای نے بھی پاکستانی ورکرز کی سوشل میڈیا کے استعمال سے ناواقفیت پر سوالات اٹھائے تھے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ہر سال تقریباً ساڑھے سات لاکھ پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک جاتے ہیں جبکہ 1971 سے اب تک بارہ لاکھ افراد بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ اگر کسی شہری کو دو یا تین مرتبہ پروٹیکٹر جاری ہوا ہو تو اسے بھی او پی ایف کے ڈیٹا میں شامل کیا جاتا ہے۔

اوورسیز کمیٹی کے اجلاس میں رکن کمیٹی ناصر بٹ کی تاخیر سے آمد پر ایم ڈی او پی ایف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’’لگتا ہے بٹ صاحب لاہور میں بسنت منا رہے تھے‘‘ جس پر اجلاس میں ہنسی کا ماحول پیدا ہو گیا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے خصوصی عدالتیں

حکام نے بتایا کہ بیرونِ ملک یا پاکستان میں وفات پانے والے اوورسیز پاکستانیوں کی رقوم متعلقہ ممالک سے وصول کر کے ان کے اہلِ خانہ کو فراہم کی جاتی ہیں۔ جیلوں میں قید پاکستانیوں کے ڈیٹا سے متعلق سوال پر بتایا گیا کہ یہ معلومات متعلقہ سفارت خانوں کے پاس ہوتی ہیں۔

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام سے متعلق حکام نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت اسلام آباد اور پنجاب میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی عدالتیں قائم ہو چکی ہیں، جبکہ پنجاب کے زیرِ التوا کیسز کی تفصیلات بعد میں کمیٹی کو فراہم کی جائیں گی۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں بیماری کی صورت میں مفت علاج، سیکیورٹی رینٹ اے کار اور ہوٹلوں میں پچاس فیصد تک رعایت دی جا رہی ہے، جبکہ ہر سال اوورسیز پاکستانیوں کا کنونشن پاکستان میں منعقد کیا جائے گا۔

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ہاؤسنگ اسکیموں سے متعلق بتایا گیا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کوئی اسکیم موجود نہیں، جبکہ اسلام آباد اور لاہور میں اسکیمیں زیرِ التوا ہیں۔

حکام کے مطابق قبضہ شدہ زمینیں واپس لے لی گئی ہیں، ایک سال میں ادارے کے نقصانات پچاس فیصد کم ہوئے اور پی ٹی سی ایل کی سندھ میں موجود زمین پر مشترکہ ہاؤسنگ منصوبہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے ڈی جی ایف آئی کو طلب کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

واضح رہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام کا مقصد انھیں انصاف کی جلد فراہمی ممکن بنانا ہے خاص کر وہ افراد جن کو پاکستان چھٹی آنے پر یہاں پلاٹس پر قبضہ سمیت دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے. 

Comments are closed.