ہتھیار ڈالیں گے اور نہ ہی واشنگٹن کے دباؤ میں آئیں گے، وزیر دفاع وینزویلا
فوٹو : سوشل میڈیا
کارا کاس : امریکی حملے کے بعد وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز جو کہ عملاً فوج کے بھی سربراہ ہیں نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کو اپنی تاریخ کی ’اب تک کی بدترین جارحیت‘ کا سامنا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو کر مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو نے کا ویڈیو پیغام میں کہنا ہے کہ ’انھوں نے ہم پر حملہ کیا ہے، لیکن وہ ہمیں زیر نہیں کر سکیں گے۔‘ انھوں نے ملک بھر میں فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا اعلان بھی کیا ہے۔
ولادیمیر پادرینو نے کراکس میں امریکی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’بزدلانہ عمل‘ قرار دیا اور واضح کہا ہے کہ حکومت کسی صورت ہتھیار ڈالیں گے اور نہ ہی واشنگٹن کے دباؤ میں آئیں گے، وزیر دفاع وینزویلا کا بیان ۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی کارروائی ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی توہین ہے، امریکی فورسز نے کاراکاس کے گنجان آباد علاقوں میں ہیلی کاپٹروں سے راکٹ فائر کیے۔
وینزویلا کے وزیرِ دفاع نے کہا ’ہم مذاکرات نہیں کریں گے، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ہم کامیاب ہوں گے۔” حملے فویرتے تیونا، کراکس، میرانڈا، اراگوا اور لاگوآردیا کی ریاستوں پر ہوئے ہیں، زخمیوں اور ہلاکتوں کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آزاد، خودمختار اور مقتدر وینزویلا پوری قوت سے غیرملکی افواج کی موجودگی کو مسترد کرتا ہے، جنہوں نے اپنے راستے میں موت، درد اور تباہی چھوڑی ہے۔
وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ہم نے زمینی، فضائی، بحری، دریائی اور میزائل مسلح نظاموں کو فعال کردیا ہے۔ فوجی و پولیس آپریشنل اقدامات فعال کردیے ہیں۔
دوسری طرف وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ نکولس مادورو ہی وینزویلا کے صدر ہیں اور صدرمادورو کو اغوا کیا گیا ہے۔ڈیلسی روڈریگز کا کہنا تھا کہ وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا، ملک کے دفاع کے لیے عوام صبر اور اتحاد سے کام لیں.
Comments are closed.