کراچی: الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر ہنگامہ،ایم پی اے سمیت جماعت اسلامی رہنما گرفتار

کراچی: الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر ہنگامہ،ایم پی اے سمیت جماعت اسلامی رہنما گرفتار

فوٹو : فائل

کراچی: کراچی: الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر ہنگامہ،ایم پی اے سمیت جماعت اسلامی رہنما گرفتار،الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دفتر کے باہر جماعت اسلامی کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس کے دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پولیس نے جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے موقع پر موجود جماعت اسلامی کے کارکنان کو منتشر کر دیا جبکہ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما اور کارکنان کراچی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر پریس کانفرنس کے لیے جمع ہوئے تھے، تاہم پولیس نے پریس کانفرنس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اجازت نہ ملنے پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے محمد فاروق سمیت کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔

محمد فاروق کا سخت مؤقف: "یہ بادشاہ سلامت کا گھر نہیں” ہے

پولیس کارروائی سے قبل جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کو اجاگر کرنے کے لیے یہاں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ بادشاہ سلامت کا گھر نہیں، یہ عوام کا ملک ہے اور یہاں پریس کانفرنس ہو کر رہے گی”۔

محمد فاروق نے واضح کیا تھا کہ اگر پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تو جماعت اسلامی احتجاج کا حق استعمال کرے گی۔ ان کے مطابق آئین ہر شہری اور سیاسی جماعت کو پرامن احتجاج اور اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، جسے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

14 فروری کے دھرنے کا اعلان، حکومتی اقدامات پر تنقید

جماعت اسلامی کے رہنما نے اس موقع پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دیے جانے والے دھرنے کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ محمد فاروق نے دوٹوک انداز میں کہا کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود دھرنا ضرور ہوگا اور جماعت اسلامی اپنے آئینی حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں عوام مہنگائی، بدانتظامی اور انتخابی ناانصافیوں سے تنگ آ چکے ہیں اور جماعت اسلامی ان کی آواز بن کر سامنے آئی ہے۔ محمد فاروق کے مطابق الیکشن کمیشن کی خاموشی اور حکومتی رویہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی پریس کانفرنس شروع ہونے لگی، پولیس نے جماعت اسلامی کے کارکنان کو پیچھے ہٹنے کا کہا۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے محمد فاروق سمیت کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا اور باقی کارکنان کو منتشر کر دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی سیکیورٹی خدشات اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کی گئی، تاہم جماعت اسلامی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی دباؤ اور اظہارِ رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

سیاسی حلقوں کا ردعمل،صورتحال کا مجموعی جائزہ 

جماعت اسلامی کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ منتخب رکن اسمبلی کو پریس کانفرنس کے دوران حراست میں لینا جمہوریت کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی جماعتوں کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا تو سڑکوں پر احتجاج ناگزیر ہو جاتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ سندھ میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومتی اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر پیش آنے والا واقعہ نہ صرف سیاسی آزادیوں بلکہ ریاستی اداروں کے کردار پر بھی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ آئندہ دنوں میں اگر فریقین کے درمیان مکالمہ نہ ہوا تو سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ متوقع ہے، خصوصاً 14 فروری کے اعلان کردہ دھرنے کے تناظر میں۔

Comments are closed.