چین کی چینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کویورپی نیٹ ورک سے اخراج کی بازگشت پرتشویش
فوٹو : سی جی ٹی این فائل
بیجنگ : چین کی چینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کویورپی نیٹ ورک سے اخراج کی بازگشت پرتشویش سامنے آئی ہے اس حوالے سی سی چی ٹی این کی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ چین نے یورپی کمیشن کی جانب سے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر چینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو یورپ کے موبائل کمیونیکیشن نیٹ ورک سے مکمل طور پر خارج کرنے کے مبینہ ارادے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے اکیس جنوری کو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے معمول کی پریس بریفنگ میں اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین نے متعلقہ رپورٹس کا نوٹس لیا ہے اور انہیں انتہائی تشویشناک سمجھتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ چینی کمپنیاں طویل عرصے سے یورپ میں مقامی قوانین اور ضابطوں کے مطابق کاروبار کر رہی ہیں اور انہوں نے کبھی یورپی ممالک کی قومی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اس کے برعکس، چینی اداروں نے یورپ کی ٹیلی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا اور یورپی صارفین کو معیاری مصنوعات اور خدمات فراہم کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی ٹھوس شواہد کے، غیر تکنیکی اور سیاسی معیاروں کی بنیاد پر کمپنیوں کی مارکیٹ تک رسائی کو محدود کرنا یا مکمل طور پر ممنوع قرار دینا، مارکیٹ اصولوں اور منصفانہ مسابقت کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ترجمان کے مطابق ایسے اقدامات نہ تو نام نہاد سکیورٹی خدشات کو دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی حقیقی تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں، بلکہ اس کے نتیجے میں یورپی معیشت، سرمایہ کاری کے ماحول اور صارفین کو بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
گو جیاکھون نے زور دے کر کہا کہ چین یورپی یونین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحفظ پسندی اور امتیازی پالیسیوں کے غلط راستے پر آگے بڑھنے سے باز رہے اور ایک کھلی، شفاف اور غیر امتیازی کاروباری فضا کو یقینی بنائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر چینی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کی گئیں تو چین اپنے کاروباری اداروں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور یورپی یونین کے درمیان ٹیکنالوجی، 5G نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے معاملات پر پہلے ہی اختلافات موجود ہیں، اور کسی بھی سخت فیصلے سے یورپ-چین تجارتی تعلقات مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
Comments are closed.