پینٹاگون سے تنازعہ،اوپن اے آئی کی عہدیدارشہریوں کی جاسوسی پر مستعفی
فوٹو : سوشل میڈیا
اسلام آباد : پینٹاگون سے تنازعہ،اوپن اے آئی کی عہدیدارشہریوں کی جاسوسی پر مستعفی ، مصنوعی ذہانت کی معروف امریکی کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کی روبوٹکس ٹیم کی سربراہ کیٹلن کالینووسکی نے امریکی حکومت کے ساتھ کمپنی کے حالیہ دفاعی معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق بعض اخلاقی حدود کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس پر انہیں اصولی مؤقف اختیار کرنا پڑا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اوپن اے آئی اور امریکی محکمہ دفاع کے درمیان یہ معاہدہ گزشتہ ماہ اس وقت سامنے آیا جب کمپنی کے ایک بڑے حریف ادارے اینتھروپک (Anthropic) نے اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو غیر مشروط فوجی استعمال کے لیے فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد امریکی حکام نے اوپن اے آئی کے ساتھ تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
کیٹلن کالینووسکی اس سے قبل سوشل میڈیا کمپنی میٹا میں بھی اہم ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک بااثر شخصیت سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے استعفے کے اعلان میں کہا کہ ان کا فیصلہ کسی ذاتی اختلاف یا ناراضی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ دو معاملات کو انتہائی حساس سمجھتی ہیں: پہلا ’عدالتی نگرانی کے بغیر امریکی شہریوں کی نگرانی یا جاسوسی‘ اور دوسرا ’انسانی مداخلت کے بغیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال‘۔ ان کے مطابق یہ وہ سرخ لکیریں ہیں جنہیں عبور کرنے سے پہلے سنجیدہ بحث اور واضح ضابطہ اخلاق ضروری تھا۔
پینٹاگون کے ساتھ معاہدے کے اعلان میں غیر ضروری جلد بازی دکھائی گئی
کیٹلن کالینووسکی نے مزید کہا کہ اوپن اے آئی کی جانب سے پینٹاگون کے ساتھ معاہدے کے اعلان میں غیر ضروری جلد بازی دکھائی گئی اور اس حوالے سے ضروری اخلاقی اصولوں اور حفاظتی اقدامات کو واضح نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت جیسی طاقتور ٹیکنالوجی کے استعمال میں شفافیت اور واضح حکمرانی کا نظام انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین نے بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی اپنے معاہدے کی شرائط میں ترمیم کر رہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اوپن اے آئی کے ماڈلز کو امریکی شہریوں کی اندرونی نگرانی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے پُرعزم ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق کیٹلن کالینووسکی کا استعفیٰ مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال اور اس کے اخلاقی پہلوؤں پر جاری عالمی بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ سوال تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے کہ اے آئی کو دفاعی اور جنگی مقاصد کے لیے کس حد تک استعمال کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے کون سی قانونی اور اخلاقی حدود مقرر کی جائیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال سے متعلق عالمی سطح پر واضح قوانین اور نگرانی کے نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
Comments are closed.