ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ٹرافی پربھارت میں تنازعہ،ٹرافی مسجد اورچرچ نہیں تو مندرکیسے جاسکتی ہے؟
فوٹو : فائل
اسلام آباد / نئی دہلی آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی ٹرافی کو بھارت میں ایک مندر لے جانے کے معاملے پر نئی سیاسی اور سماجی بحث شروع ہوگئی ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں Lok Sabha کے رکن اور سابق ٹیسٹ کرکٹر Kirti Azad نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیل کو مذہب سے جوڑنا بھارت جیسے متنوع معاشرے کے لیے مناسب نہیں۔
کرتی آزاد نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ٹرافی ،ٹرافی مسجد اورچرچ نہیں تو مندرکیسے جاسکتی ہے؟ بھارت کو اس معاملے پر شرم آنی چاہیے کیونکہ کرکٹ ٹیم پورے ملک کی نمائندگی کرتی ہے نہ کہ کسی ایک مذہب یا شخصیت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم کی کامیابیاں تمام مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب بھارت نے 1983 Cricket World Cup جیتا تھا تو اس تاریخی ٹیم میں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی کھلاڑی شامل تھے اور اس کامیابی کو پورے ملک نے مشترکہ قومی جشن کے طور پر منایا تھا۔
بھارت میں کرکٹ کو مذہب سے جوڑنے پر اعتراض
کرتی آزاد نے سوال اٹھایا کہ اگر ٹرافی کو مندر لے جانا درست سمجھا جاتا ہے تو پھر دیگر مذاہب کے کھلاڑی بھی اسی طرح مذہبی مقامات پر ٹرافی کیوں نہیں لے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی فاسٹ بولر Mohammed Siraj ٹرافی کو مسجد نہیں لے جا سکتے اور وکٹ کیپر بیٹر Sanju Samson اسے چرچ نہیں لے گئے تو پھر اسے مندر لے جانا بھی مناسب نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کھیل قومی یکجہتی کا ذریعہ ہونا چاہیے اور اسے مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑنا غیر ضروری تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈکپ ٹرافی کسی ایک فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ بھارت کے تقریباً 140 کروڑ عوام کی مشترکہ کامیابی کی علامت ہے۔
کرتی آزاد نے خاص طور پر Jay Shah کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی کے صدر کی حیثیت سے انہیں اس طرح کے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس سے کھیل کی غیر جانبدار حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ٹرافی تنازعہ پربھارت میں سیاسی و سماجی ردعمل
اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ کھیل کو مذہبی رنگ دینا بھارت جیسے کثیر المذاہب معاشرے میں تقسیم کو بڑھا سکتا ہے جبکہ دیگر حلقے اسے ایک نجی یا علامتی اقدام قرار دے کر تنقید کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں کھیل اور سیاست کے باہمی تعلق پر کئی مرتبہ بحث ہو چکی ہے، خاص طور پر جب بڑے کھیلوں کے ایونٹس یا کامیابیوں کو سیاسی یا مذہبی بیانیے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ International Cricket Council کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے عالمی ٹورنامنٹس کی ٹرافیاں دراصل بین الاقوامی کھیل کی علامت ہوتی ہیں اور انہیں قومی یا مذہبی تنازعات سے دور رکھا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ بھارتی ٹیم کی حالیہ کامیابی کے بعد ٹرافی کی مختلف تقریبات اور تقاریب میں نمائش کی جا رہی ہے تاہم مندر لے جانے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد اس معاملے نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ مستقبل میں کھیل اور مذہب کے تعلق پر مزید بحث کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ٹرافی پربھارت میں تنازعہ،ٹرافی مسجد اورچرچ نہیں تو مندرکیسے جاسکتی ہے؟
Comments are closed.