وینزویلا پر حملے میں 150 فائٹر طیارے استعمال ہوئے، امریکی ملٹری چیف

فوٹو : سوشل میڈیا

اسلام آباد : وینزویلا پر حملے میں 150 فائٹر طیارے استعمال ہوئے، امریکی ملٹری چیف ریسن کین کا کہنا تھا کہ کئی ماہ کی تیاری اور دہائیوں کے تجربے کی بنیاد پر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کی گئی، ناکامی کا کوئی آپشن نہیں تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا پر حملہ کے بعد بریفنگ میں امریکی ملٹری چیف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حکم اور وزارت انصاف کی درخواست پر وینزویلا میں آپریشن کیا گیا، نکولس مادورو اور اہلیہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے آپریشن کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی تیاری اور دہائیوں کے تجربے کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، امریکا کی زمینی، فضائی اور بحری فوج نےانٹیلی جنس ایجنسی سے مل کر تیاری کی۔

ریسن کین نے مزید کہا کہ سی آئی اے، این ایس اے اور این جی اے سمیت انٹیلی جنس ایجنسیز کے تعاون کے بغیر یہ مشن پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ آپریشن میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا، امریکا کے جوائنٹ فورسز کےلیے ناکامی آپشن نہیں تھا، فوجی نقصان کم سے کم کرنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کیا گیا۔

امریکی ملٹری چیف نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ رات اس مشن کو انجام دینے کا حکم دیا، ہم نے 20 مختلف بری اور بحری اڈوں سے طیارے روانہ کیے۔

انہوں نے کہا کہ 150 سے زائد بمبار فائٹرز فضا میں تھے، فورس میں ایف 22، ایف 35، ایف 18، ای اے 18، ای 2، بی ون بمبار اور دیگر سپورٹ طیاروں نے حصہ لیا۔

امریکی ملٹری چیف نے کہا کہ جیسے ہی فورس کراکس کے پہنچی ایئر فورس نے وینزویلا کے ایئر ڈیفنس کو ناکارہ بنانا شروع کیا، اس طرح ہیلی کاپٹرز کو مطلوبہ ہدف پر پہنچنےکا راستہ بنایا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کراکس کے وقت کے مطابق رات 2 بجے ہم نکولس مادورو کے کمپاونڈ پر پہنچے، ہماری فورسز اندر داخل ہوئیں، ٹارگٹ ایریا پہنچنے پر ہمارے ہیلی کاپٹر آگ کی زد میں آئے۔

امریکی ملٹری چیف نے یہ بھی کہا کہ اس دوران ہمارا ایک ہیلی کاپٹر نشانہ بنا لیکن وہ اڑنے کے قابل تھا، آپریشن کےبعد ہمارے تمام طیارے واپس پہنچ گئے۔انہوں نے کہا کہ امریکی وزارت انصاف نے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا.

انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وینزویلا سے واپسی پر متعدد سیلف ڈیفنس کے کارروائیاں بھی کی گئیں.

کئی ماہ کی تیاری اور دہائیوں کے تجربے کی بنیاد پر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کی گئی

نکولس مادورو وینزویلا کے قانونی صدر نہیں تھے، امریکی وزیر خارجہ

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ نکولس مادورو وینزویلا کے قانونی صدر نہیں تھے، اُن کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر تھی جو اہم نے بچائی ہے۔

اس حوالے سے ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا میں نکولس مادورو پر 2020ء میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، انہوں نےجرائم پیشہ افراد کا سیلاب امریکا بھیجا، امریکی کو قیدی بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت، بائیڈن حکومت اور ٹرمپ کے دوسری حکومت نے مادورو کو صدر تسلیم نہیں، یورپی یونین اور دیگر کئی ممالک بھی مادورو کو صدر تسلیم نہیں کیا۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ مادورو کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر مقرر تھی، ہم نے وہ رقم بچائی، مادورو کے پاس اس صورتحال سے بچنے کے کئی مواقعے تھے، اُسے بہت پرکش پیشکش بھی کی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ مادورو ایران کو اپنے ملک دعوت دی، ہمارا تیل ضبط کیا، صدر ٹرمپ گیم نہیں کرتے، جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں.

Comments are closed.