وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ضلع خیبر کی اقوام کا جرگہ بُلانے کا فیصلہ
فوٹو : فائل
پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ضلع خیبر کی اقوام کا جرگہ بُلانے کا فیصلہ، یہ فیصلہ وادی تیراہ کے معاملے پر وفاقی حکومت کی جانب سے نقل مکانی کے حوالے سے موقف سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے، سہیل آفریدی اس ایشو پر پہلے ہی صوبائی حکومت کی پوزیشن واضح کر چکے ہیں.
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اتوار کو 2 بجے پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹ بال اسٹیڈیم میں بلایا گیا ہے۔
جرگہ کے حوالے سے پشاور سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی منتخب جمہوری حکومت گرائی گئی، بانیٔ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد دہشت گرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو جرگے کیے۔
وزیرِ اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ اس وقت پی ڈی ایم کی حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں بے امنی بھی لوٹ آئی اور معیشت بھی تباہ حال ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا۔
حکومتی نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو متاثرین تیراہ کو خود واپس لے کر جاوں گا، سہیل آفریدی
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ سب نے کہا کہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ مستقل امن قائم ہو سکے، لوگوں کو برف باری کے موسم میں گھر بار خالی کرنے پر مجبور کیا گیا، میری حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے 4 ارب روپے ریلیز کیے ہیں.
واضح رہے کہ وفاقی وزراء نے گزشتہ روز کہا ہے حکومت نے آپریشن کا فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی تیراہ سے نقل مکانی کا کہا ہے.
وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی اور دیگر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ خیبر کے سرحدی علاقوں بالخصوص وادی تیراہ میں موسمِ سرما کے دوران نقل مکانی کوئی نیا یا غیر معمولی عمل نہیں بلکہ یہ صدیوں سے جاری ایک معمول ہے، جس کا تذکرہ برطانوی دور کے گزٹیئرز میں بھی موجود ہے.
تھری منسٹرز کا کہنا تھا کہ اس مائیگریشن کا پاک فوج کے کسی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج اور وفاق پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جڑی تمام وادیوں میں شدید برف باری کے باعث ہر سال چند ماہ کے لیے نقل مکانی ہوتی ہے لوگ اپنے گھروں میں ایک دو افراد چھوڑ کر نسبتاً محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں، جو ایک فطری اور تاریخی عمل ہے، اسی تناظر میں 11 دسمبر کو ایک جرگہ منعقد ہوا.
جس میں 12 سے 13 مشران شریک تھے یہ جرگہ نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ ٹی ٹی پی کے نمائندوں سے بھی ملا، صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد مائیگریشن پیکیج طے پایا اور اس حوالے سے باقاعدہ دستاویزات بھی موجود ہیں، نقل مکانی کا نوٹیفکیشن کے پی حکومت اور جرگہ کی مشاورت سے جاری ہوا مگر نقل مکانی کو بحران قرار دینے کی کوشش ہورہی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس تمام عمل میں فوج یا وہاں تعینات دفاعی اداروں کا کوئی کردار نہیں، مذکورہ علاقے میں کئی سال قبل آپریشن ہوا تھا جس کے بعد فوج نے آئی ڈی پیز کی واپسی کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقے سے آپریشن ختم کر دیا آج صورتحال یہ ہے کہ وہاں نہ اسپتال ہیں، نہ اسکول اور نہ ہی تھانہ، جبکہ جرگے کے ساتھ یہ طے پایا تھا کہ ان بنیادی سہولیات کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ علاقے میں سول لاء انفورسمنٹ کی کوئی موجودگی نہیں، شدید سردی کے باعث وہاں مستقل رہائش مشکل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس علاقے میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ رقبے پر ہیمپ (بھنگ) کی کاشت ہو رہی ہے جس سے بھاری منافع حاصل ہوتا ہے.
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ اس سے تیار ہونے والی ادویات اور آمدنی یا تو بااثر سیاسی افراد یا ٹی ٹی پی کی جیب میں جاتی ہے. یہی اصل مسئلے کی جڑ ہے وفاقی حکومت اس نظام کو بدلنے کے لیے اسکول، تھانے اور ریاستی رٹ قائم کرنا چاہتی ہے جس کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت کے بعض عناصر کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اسی لیے وہ اس معاملے کو متنازع بنا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سویلین حکومت اور جرگہ مل کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے ایک ایسے آپریشن کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔
Comments are closed.