قطرامریکہ اور ایران کے درمیان مزاکرات میں ثالثی کا حصہ نہیں ہوگا، وزارتِ خارجہ
فوٹو : سوشل میڈیا
دوحہ:قطرامریکہ اور ایران کے درمیان مزاکرات میں ثالثی کا حصہ نہیں ہوگا، وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے کسی براہِ راست ثالثی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور اس وقت اس کی اولین ترجیح اپنی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
اس حوالے سےدوحہ میں پریس بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر اس وقت کسی سفارتی مذاکراتی عمل میں شامل نہیں، بلکہ اپنی سرزمین کے تحفظ اور حملوں کے خاتمے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران قطر کو متعدد خطرات کا سامنا رہا ہے اور اب تک 200 سے زائد ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جس کے باعث دفاعی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ جمعرات کے بعد سے ایران کی جانب سے قطر پر کوئی نیا میزائل یا ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا، تاہم خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران کی جانب سے دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان جنگ خاتمہ کےلئےمزاکرات کی میزبانی کےلئے تیارہے،وزیراعظم شہباز شریف
ڈاکٹر ماجد الانصاری نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایران کے ساتھ تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں، کہا کہ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر تعلقات برقرار رکھنے ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اگر کوئی مذاکرات جاری ہیں تو اس حوالے سے سوال انہی فریقین سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ قطر اس عمل کا حصہ نہیں ہے۔
قطری ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم اس حوالے سے کسی بڑے ردِ عمل کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث علاقائی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور کسی بھی وقت صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر سفارتی کوششوں اور مذاکرات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
Comments are closed.