عمران خان کی رہائی کےلئےملک گیر تحریک شروع کرنے کااعلان کردیاگیا

فوٹو : اسکرین گریب 

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی طرف سےعمران خان کی رہائی کےلئےملک گیر تحریک شروع کرنے کااعلان کردیاگیا، یہ اعلان اسلام آباد میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ ، صوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر رہنماوں نے پریس کانفرنس میں کیا ان کاکہنا تھا کہ بہت کوششیں کی ہیں لیکن عدالتوں سے انصاف نہیں دیا جارہا ہے۔

سیکرٹری جنرل Salman Akram Raja اور خیبر پختونخوا کے صدر Junaid Akbar Khan نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عید کے بعد “رہائی امن موومنٹ” کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد آئین و قانون کی بالادستی اور حقیقی آزادی کا حصول ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی بدحالی اور نوجوانوں میں بڑھتی مایوسی کے پیش نظر یہ تحریک ناگزیر ہو چکی ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالتی نظام کمزور ہو چکا ہے، ہزاروں افراد جھوٹے مقدمات میں قید ہیں اور عوام کو دباؤ اور خوف کا سامنا ہے، اس لیے تحریک کا محور آئین کی بحالی اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عید کے فوراً بعد تحریک کے تنظیمی ڈھانچے کا اعلان کیا جائے گا، جس میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر قیادت مقرر کی جائے گی۔ ان کے مطابق اس تحریک کی قیادت خیبر پختونخوا کی حکومت کرے گی اور اسے ملک گیر سطح پر منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

ڈیجیٹل اور زمینی دونوں سطحوں پر مہم چلائی جائے گی

پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی رہنما Dr Amjad نے بتایا کہ تحریک کے آغاز سے قبل ایک ماہ کے اندر ایک لاکھ افراد کو باقاعدہ رجسٹر کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل اور زمینی دونوں سطحوں پر مہم چلائی جائے گی تاکہ کارکنوں کو منظم کیا جا سکے۔

رہنماؤں کے مطابق اس بار ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے تحریک کو زیادہ مربوط اور منظم بنایا جائے گا، اور چاروں صوبوں سے بھرپور شرکت یقینی بنائی جائے گی۔

ہماری جدوجہد پرامن ہوگی ، تصادم نہیں چاہتے،جنید اکبر

جنید اکبر خان نے واضح کیا کہ یہ ایک پرامن تحریک ہوگی جس کا مقصد تصادم نہیں بلکہ جمہوری جدوجہد کے ذریعے حقوق کا حصول ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تاہم پی ٹی آئی آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

پی ٹی آئی قیادت نے اس تحریک کو “فیصلہ کن مرحلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد نہ صرف ایک سیاسی رہنما کی رہائی بلکہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلان پاکستان کی سیاست میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے اثرات آنے والے ہفتوں میں واضح طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

Comments are closed.