علماء کونسل کے وفد کی ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات، مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال

فوٹو : آئی ایس پی آر

راولپنڈی : علماء کونسل کے وفد کی ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات، مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا، آئی ایس پی آر سے جاری اعلامیہ کے مطابق جی ایچ کیو میں 13 جنوری 2026 کو نیشنل پلیٹ فارم آف علماء کونسل (این پی اے سی) کے وفد نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات کی.

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں قومی بیانیے کے فروغ، داخلی سلامتی اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران این پی اے سی نے پاک افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ریاست دشمن بیانیوں، فتنہ الخوارج، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی اور واضح کیا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں یکسوئی، فکری ہم آہنگی اور متفقہ بیانیہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے فتنہ الخوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں داخلی سلامتی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر متحد مؤقف دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنا سکتا ہے۔

ملاقات میں کشمیر اور غزہ کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مظلوم اقوام کی حمایت پاکستان کی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔

این پی اے سی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ منبر و محراب کے ذریعے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی، آئینی برابری اور ریاستی بیانیے کا پیغام ملک بھر میں عام کیا جائے گا۔ دونوں فریقین نے نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری سوچ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئے عوامی شعور، سچائی پر مبنی معلومات اور مضبوط قومی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار ہیں۔ این پی اے سی نے تجویز دی کہ ریاستی بیانیے کے فروغ کیلئے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی اور رہنمائی نشستوں میں اضافہ کیا جائے۔

ملاقات کو غیر معمولی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعتماد اور عملی تعاون کے نئے راستوں پر پیش رفت کی توقع ظاہر کی۔

Comments are closed.