شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق اہم فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ

شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق اہم فیصلہ

فوٹو : فائل

اسلام آباد:  اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جہیز اور دلہن کو ملنے والے ذاتی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ملکیت ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ Islamabad High Court نے واضح کیا کہ اگر جہیز کا سامان واپس نہ کیا جائے تو متاثرہ خاتون اس کی متبادل قیمت حاصل کرنے کی حقدار ہوگی۔

یہ فیصلہ محسن اختر کیانی نے 28 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں دیا، جس میں فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اپیلٹ کورٹ نے درخواست گزار خاتون کے حقوق کو نظر انداز کیا، جو قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ عدالت نے فیملی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے پر دو ماہ کے اندر فیصلہ کرے۔

ٹرانسفارمر ہٹانا ہو پھر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ، 22 سال بعد انصاف مل گیا

فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی گئی کہ خواتین کے مالی اور ملکیتی حقوق کے تحفظ کیلئے واضح قانون سازی کی جائے، جبکہ نکاح نامے میں بھی ترمیم کر کے ایسے نکات شامل کیے جائیں جن کے تحت:

  • شادی کے بعد
  • دورانِ شادی
  • طلاق کی صورت میں
  • یا شوہر کی وفات کی صورت میں

شوہر کی ملکیتی جائیداد بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم کرنے کی شرط رکھی جائے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ گھریلو خواتین کو بھی شادی کے دوران حاصل ہونے والے اثاثوں میں مناسب حصہ دیا جانا چاہیے، اور اس حوالے سے قانون سازی ناگزیر ہے۔

فیصلے میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر لڑکیوں کو ان کے ازدواجی اور قانونی حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ وہ اپنے حقوق کا بہتر تحفظ کر سکیں۔

Comments are closed.