سپریم کورٹ کو نیب سے متعلق مقدمات کی سماعت اختیار حاصل نہیں ہے، عدالتی فیصلہ

عمران خان کی  آنکھ کا معاملہ سپریم کورٹ نے نمٹا دیا،7 صفحات کا حکم نامہ جاری

فوٹو : فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک اہم آئینی فیصلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب سے متعلق مقدمات کی سماعت اختیار حاصل نہیں ہے، عدالتی فیصلہ میں قرار دیا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق مقدمات کی سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ نیب کیسز میں دائر مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں اب وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

عدالت نے قرار دیا کہ نیب آرڈیننس کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو ان مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں۔
عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیب سے متعلق تمام زیر التوا مقدمات، اپیلیں اور درخواستیں آئین کے آرٹیکل 175 اے اور 175 ایف کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو منتقل شدہ تصور ہوں گی، جہاں ان کی مزید سماعت کی جائے گی۔

یہ فیصلہ نیب قوانین کے تحت مقدمات کے دائرۂ اختیار کو واضح کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد احتساب سے متعلق اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کا فورم تبدیل ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے بھی ہائی کورٹ کے ضمانت سے متعلق فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت سے متعلق درخواست بھی وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائے گی، جہاں اس پر قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔

Comments are closed.