سعودی عرب کے ایران کیخلاف جنگ میں شریک نہ ہونے پر امریکی سینیٹرلینڈسے برہم

سعودی عرب کے ایران کیخلاف جنگ میں شریک نہ ہونے پر امریکی سینیٹرلینڈسے برہم

فوٹو : فائل

 واشنگٹن : متنازع اور سخت مؤقف کے لیے جانے جانے والے امریکی سینیٹر Lindsey Graham نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ریاض ایران کے خلاف کسی ممکنہ جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے کے لیے تیار نہیں تو پھر امریکہ کو اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے۔

امریکی سینیٹر کے اس بیان نے نہ صرف سعودی اور عرب سوشل میڈیا صارفین میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے بلکہ اس کے بعد واشنگٹن اور ریاض کے تعلقات کے مستقبل پر بھی نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس بیان نے یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آیا سعودی عرب کی موجودہ محتاط حکمت عملی خطے میں کسی بڑے تصادم سے بچنے کی کوشش ہے یا ریاض واقعی اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کو مقدم رکھنا چاہتا ہے۔

ایرانی حکومت نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں دہشت پھیلائی ہے

سینیٹر لنڈسے گراہم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (formerly Twitter) پر امریکی اخبار The New York Times کی ایک خبر شیئر کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا۔ اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں تعینات امریکی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لنڈسے گراہم نے لکھا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے کو خالی کیا جا رہا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل حملوں کا خطرہ موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی سمجھ کے مطابق سعودی عرب اپنی مضبوط فوجی صلاحیتوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کر رہا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے خلاف براہِ راست کارروائی کرے، جسے انہوں نے خطے میں بدامنی اور دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا۔

https://

لنڈسے گراہم نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں دہشت پھیلائی ہے اور اس تنازع کے نتیجے میں سات امریکی شہری بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  امریکہ سعودی عرب دفاعی معاہدے پر سوال

امریکی سینیٹر نے اپنے بیان میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر سعودی عرب اس تنازع میں مشترکہ مفادات کی لڑائی میں عملی حصہ لینے کے لیے تیار نہیں تو پھر امریکہ کو اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور اس دوران امریکی شہری بھی اس تنازع کی قیمت ادا کر رہے ہیں، تاہم اس کے باوجود سعودی عرب براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

لنڈسے گراہم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب بظاہر بیانات جاری کر رہا ہے اور محدود نوعیت کے اقدامات کر رہا ہے، مگر ایران کے اثر و رسوخ کے خاتمے کے لیے کسی بڑی فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے اجتناب کر رہا ہے۔

 سعودی عرب میں امریکی سینیٹرکے بیان پرردعمل 

امریکی سینیٹر کے اس بیان کے بعد سعودی اور عرب سوشل میڈیا حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی صارفین نے اس بیان کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی اور قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست اور امریکہ و سعودی عرب کے تعلقات کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ریاض خطے میں زیادہ متوازن اور محتاط خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی بڑے علاقائی تصادم سے بچا جا سکے۔


سعودی عرب کے ایران کیخلاف جنگ میں شریک نہ ہونے پر امریکی سینیٹرلینڈسے برہم

Comments are closed.