سعودی عرب کا عیدالفطر پر پاک افغان عارضی جنگ بندی کاخیرمقدم
فوٹو : فائل
ریاض : سعودی عرب کا عیدالفطر پر پاک افغان عارضی جنگ بندی کاخیرمقدم سامنے آیا ہے،ایس پی اے کے مطابق وزارت نے بیان میں جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی درخواست پر فریقین کی رضا مندی کو سراہا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں زور دیا گیا کہ ’ بات چیت اور پر امن حل کو ترجیح دینا جاری تنازعات کو حل کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔‘ خطے میں امن سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے برادر اور دوست ملکوں کے ساتھ مل کر انتھک سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس سے قبل پاکستان نے نے افغانستان میں جاری ’آپریشن غضب للحق‘ کو عارضی طور روکنے کا اعلان کیا تھا،بدھ کو پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا سائیٹ ایکس پر عارضی آپریشن روکنے کا بتایا تھا.
انھوں نے لکھا کہ ’آنے والے اسلامی تہوار عیدالفطر کے پیشِ نظر، اور برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، ریاستِ قطر اور جمہوریہ ترکیہ کی درخواست پر، حکومتِ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے خلاف جاری ’آپریشن غضب للحق‘ میں عارضی وقفے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
’یہ وقفہ 18/19 مارچ 2026 کی درمیانی شب سے لے کر 23/24 مارچ 2026 کی درمیانی شب تک نافذ العمل ہوگا۔‘وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریاتعطاء اللہ تارڑ کے مطابق یہ فیصلہ عیدالفطر کے موقع پر اسلامی ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ عید کے دنوں میں فوجی کارروائیوں میں وقفہ دیا جائے، جس کے بعد حکومت نے خیرسگالی کے جذبے کے تحت یہ قدم اٹھایا۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق یہ وقفہ 18 مارچ کی آدھی رات سے شروع ہو کر 24 مارچ کی آدھی رات تک جاری رہے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسلامی روایات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے، تاہم اگر اس دوران پاکستان کے اندر کسی قسم کا دہشتگرد حملہ، سرحد پار کارروائی یا ڈرون حملہ ہوا تو آپریشن فوری طور پر دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وقفے کے اعلان تک آپریشن کے دوران افغان طالبان اور ان سے منسلک عناصر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ 700 سے زائد افغان جنگجو ہلاک اور 900 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ 250 سے زائد چوکیوں کو تباہ کرکے درجنوں پر قبضہ کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کی گئیں۔
بیان کے مطابق پاکستانی افواج نے 16 مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جہاں ڈرونز کے ذخائر، تکنیکی سہولیات اور اسلحہ کے گودام تباہ کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقامات پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
اسی طرح باجوڑ، کرم، طورخم خیبر، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں بھی افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور کسی شہری آبادی یا تنصیب کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ عارضی وقفہ امن اور مذہبی ہم آہنگی کے جذبے کے تحت دیا گیا ہے، لیکن ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو سراہتا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو امن کی کوششوں کو مشترکہ طور پر جاری رکھنا چاہیے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ خطے کے امن اور عوام کی سلامتی کے لیے امن کو فروغ دینا اور جارحیت کے اقدامات سے گریز کرنا انتہائی اہم ہے۔ سعودی عرب کی یہ حمایت خطے میں دیرپا امن قائم رکھنے کی بین الاقوامی کوششوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
Comments are closed.