راولپنڈی میں 2 نوجوان قتل، ایک کی لاش کی بےحرمتی، پولیس پر خواتین کی گرفتاری کا الزام
فوٹو : سوشل میڈیا
راولپنڈی : راولپنڈی میں 2 نوجوان قتل، ایک کی لاش کی بےحرمتی، پولیس پر خواتین کی گرفتاری کا الزام بھی سامنے آیا ہے اور مقتول سراج محسود کے رشتہ داروں کے مطابق پولیس نے گھر پہ چھاپہ کے دوران گھر میں موجود خواتین کو حراست میں لیا اور تھانے بند کر دیا.
راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں نوجوان کے بہیمانہ قتل اور اس کی لاش کو موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گلیوں میں گھسیٹنے کے افسوسناک واقعے نے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ واقعے کے بعد صوبائی پولیس سربراہ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق مقتول زین شاہ کو جمعہ کے روز قتل کیا گیا جبکہ بعد ازاں اس کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے موٹر سائیکل سے باندھ کر علاقے کی گلیوں میں گھسیٹا گیا۔ راولپنڈی پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ دراصل اسی روز پیش آنے والے ایک اور قتل کے ردعمل میں سامنے آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھمیال میں واقع ایک کریانے کی دکان پر زین شاہ اور دکاندار سراج محسود کے درمیان پیسوں کے لین دین پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق معاملہ وقتی طور پر رفع دفع ہوگیا تھا، تاہم بعد میں سراج محسود اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ صلح کے لیے زین شاہ کے گھر گیا جہاں دوبارہ جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ اس دوران مبینہ طور پر زین شاہ کے ساتھی عون چوہدری نے فائرنگ کر دی جس سے سراج محسود موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سراج محسود کے قتل کے بعد اس کے بعض رشتہ داروں نے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے زین شاہ کو گھر کے قریب سے اسلحے کے زور پر اغوا کیا اور مختلف مقامات پر لے جا کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق زین شاہ تشدد کے باعث جان کی بازی ہار گیا، جس کے بعد ملزمان نے لاش کو موٹر سائیکل سے باندھ کر گھسیٹا۔ تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں بھی ملزمان کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں تشدد کو موت کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے جبکہ لاش پر گھسیٹے جانے کے واضح نشانات اور خراشیں بھی موجود تھیں۔
دوسری جانب سراج محسود کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے کارروائی کے دوران ان کے گھروں پر چھاپے مارے اور بعض خواتین کو بھی حراست میں لیا، تاہم راولپنڈی پولیس کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا، البتہ دونوں قتل کیسز میں متعدد افراد زیر حراست ہیں اور ان سے تفتیش جاری ہے۔
Comments are closed.